تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 116 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 116

تاریخ احمدیت 116 جلد ۲۰ سے نوٹ میں یورپی مصنفین کے حوالے سے ثابت کیا کہ آبدست میں کاغذ کی بجائے پانی کا استعمال اصول حفظانِ صحت کی رو سے زیادہ بہتر اور مفید ہے۔چنانچہ ان کا یہ نوٹ گنی ٹائمنز کی انگلی اشاعت یعنی ۱۴ مارچ ۱۹۵۸ء کے پرچے میں شائع ہوا۔اسلام کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کا موجب بنا۔”جناب سعود احمد صاحب وائس پرنسپل احمد یہ کالج کماسی مغربی افریقہ کے اس حقیقت افروز نوٹ کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آپ نے لکھا کیا مسٹر جیو پین فورڈ سی ایم ایس گرامر سکول لیکس کے سابق پرنسپل مسٹر جے ای ایولیس بی ایس سی ( لندن ) ایل سی پی کی کتاب TROPICAL HYGIENE ( جس پر کہ ڈبلیو ٹو ڈ ایل آرسی پی (لنڈن ) ایم آرسی ایس (انگلینڈ) نے نظر ثانی کی ہے اور جابجا اس میں اضافے کئے ہیں ) کے حسب ذیل اقتباس کو پڑھنے کی زحمت اٹھا ئیں گے۔آبدست کے وقت کاغذ کی نسبت پانی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔وہ یورپی باشندے جو مشرقی ممالک میں جا کر آباد ہو جاتے ہیں وہ بالعموم پانی استعمال کرنے کا طریق استعمال کر لیتے ہیں جو لوگ اس طریق کے عادی ہو چکے ہوں انہیں اس کو جاری رکھنا چاہئے اور اسے ترک نہیں کرنا چاہئے۔طہارت کے وقت خواہ پانی استعمال کیا جائے خواہ کاغذ دونوں صورتوں میں یہ ضروری ہے کہ فراغت کے بعد ہاتھوں کو صابن اور پانی سے صاف کیا جائے۔“ ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر مشتمل جملہ کتب میں یہ مذکور ہے کہ آپ رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھ صابن یا اس زمانے کے مروج اس قسم کے دوسری چیز سے دھویا کرتے تھے۔چنانچہ وہ تمام مسلمان جنہوں نے اپنی زندگیوں کو ہادی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم اور آپ کے نمونہ کے مطابق ڈھالا ہوا ہے اسی طریق پر عمل پیرا ہیں۔محولہ بالا سند کی روشنی میں کیا میں مسٹر بین فورڈ سے دریافت کر سکتا ہوں کہ ” جناب اب فرمائیے پانی استعمال کرنے کا طریق گندا اور گھناؤنا ہے یا کاغذ کا ؟“ پھر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اسلام کے نزدیک پاکیزگی اور صفائی روحانیت کا لازمی جزو ہے۔برخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ جان دیزلے نے پاکیزگی کو روحانیت سے خارج کرتے ہوئے اسے دوسرے درجے پر رکھا ہے جیسا کہ اس کی خودساختہ ضرب المثل سے ظاہر ہے کہ