تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 115
تاریخ احمدیت 115 جلد ۲۰ کرنے کا ہی جنون رہتا ہے۔تو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں کچھ آتا نہیں جب انسان خدا تعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مددفرماتا ہے اور اس کی مشکلات کو دور فرما دیتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ہی دیکھ لو انہیں نماز پڑھانی بھی نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی قابلیت پیدا کر لی کہ مشہور لیکچرار بن گئے۔مولوی محمد علی صاحب بھی گوایم اے ایل ایل بی تھے اور کالج کے پروفیسر تھے مگر عربی سے انہیں زیادہ مس نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی ترقی کہ قرآن کی تفسیر لکھ ڈالی تو جب انسان کو کسی کام کی دھت لگ جائے وہ اس میں ترقی حاصل کر لیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں انہوں نے بعض مولوی بھی اپنی مدد کے لئے رکھے ہوئے تھے مگر ان کی باتوں کو استعمال کرنے کے لئے بھی تو لیاقت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہمارے ملک میں سینکڑوں مولوی پھرتے ہیں وہ کیوں کوئی تفسیر نہیں لکھ سکتے۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے بھی اس شوق کی وجہ سے ترقی کی اور اس نے قرآن کی تفسیر لکھ دی اس نے حضرت خلیفہ اول سے قرآن سیکھا اور آپ کے درسوں میں شامل ہوتا رہا پھر خود بھی کتابوں کا مطالبہ کرتا رہا اور آخر اتنی ترقی کر لی کہ مفسر بن گیا۔پس جماعت کے سب دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی کوشش اور جد و جہد اور نیک نمونہ کے ذریعہ سے عیسائیت کو شکست دینے کی کوشش کریں یہ مت سمجھو کہ عیسائیت تو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ہم اس کو شکست دینے میں کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔آج ہی میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ مجھے اس میں یہ پیشگوئی نظر آئی کہ عیسائیت آخر شکست کھائے گی۔اور وہ دنیا سے مٹا دی جائے گی۔پس عیسائیت کی ظاہری ترقی کو دیکھ کر مت گھبراؤ۔اللہ تعالیٰ ( دین حق ) کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے گا اور کفر کو شکست دے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اندر ایمان پیدا کرو اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ جس کے لئے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے۔اخبار ” صدق جدید میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا تذکرہ مغربی افریقہ کی آزاد مملکت غانا کے ایک مشہور انگریزی اخبار گئی ٹائمنز کی ۷ مارچ ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں جو پین فورڈ (JOE PANFORD) نامی ایک عیسائی کا اسلام کے خلاف ایک دل آزار مضمون شائع ہوا اس میں مضمون نگار نے پانی کے ساتھ طہارت کو گندہ اور گھناؤنا طریق قرار دے کر اسلام اور مسلمانوں پر ناروا حملے کئے۔اس کے جواب میں احمد یہ کالج کماسی غانا کے وائس پرنسپل جناب سعود احمد صاحب دہلوی نے ایک مختصر