تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 114 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 114

تاریخ احمدیت 114 جلد ۲۰ نے ہماری جماعت کی کوششوں میں ایسی برکت ڈالی کہ اب خود اس انگریز نے تسلیم کیا ہے کہ چار سال کے عرصہ میں پہلے سے دس گنا لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔اگر ہمارے نوجوان یورپ اور افریقہ کے عیسائیوں میں تہلکہ مچا سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر یہاں کوشش کی جائے تو اس جگہ کے عیسائی بھی ( دین حق ) کے مقابلہ سے مایوس نہ ہو جائیں۔لارڈ ہیڈلے جو کسی زمانہ میں پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں جب واپس گئے تو افریقہ میں سے ہوتے ہوئے لنڈن گئے وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ میں افریقہ میں اتنا بڑا تغیر دیکھ آیا ہوں کہ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان عیسائیت کا شکار ہیں یا عیسائی اسلام کا شکار ہیں۔ہمارے وہ مبلغ جنہوں نے ان علاقوں میں کام کیا کوئی بڑے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔مگر جب وہ خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے کے لئے نکل گئے تو خدا نے ان کے کام میں برکت ڈالی اور اکیلے اکیلے آدمی نے بڑے بڑے علاقوں پر اثر پیدا کر لیا اور انہیں اسلام کی خوبیوں کا قائل کر لیا مگر اب وہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اور آدمی بھی آئیں جو ان علاقوں میں تبلیغ ( دیں) کا کام سنبھا لیں۔تاکہ اسلام سارے افریقہ میں پھیل جائے اور یہ کام ان نوجوانوں کا ہے جو ابھی وہاں نہیں گئے شروع شروع میں تو ایسے نوجوان بھجوائے گئے تھے جنہیں عربی بھی اچھی طرح نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اچھی خاصی عربی سیکھ لی۔مولوی نذیر احمد صاحب جنہوں نے وہیں وفات پائی ہے نیر صاحب کے بعد بھجوائے گئے تھے اور بی ایس سی فیل تھے اور عربی بہت کم جانتے تھے مگر پھر بھی انہیں ایسی مشق ہو گئی کہ وہ عربی زبان میں گفتگو بھی کر لیتے تھے اور بڑی بڑی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیتے تھے۔بلکہ آخر میں تو انہوں نے عربی کی اتنی کتابیں جمع کر لی تھیں کہ جو اعتراض ہوتا اس کا جواب وہ فوراً ان کتابوں سے نکال کر پیش کر دیتے تھے۔وہاں مالکیوں کا زور ہے اور وہ لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں انہوں نے کتابوں میں سے نکال کر دکھایا کہ امام مالک بھی یہی کہتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنے چاہئیں جس پر وہ لوگ بڑے حیران ہوئے اور انہیں یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ آپ کی بات درست ہے۔اب بھی وہاں سے خط آیا ہے کہ ہمارا ایک مبلغ جو مولوی فاضل ہے اس سے وہاں کے مولوی نے بحث کی۔وہاں کے علماء عربی زبان خوب جانتے ہیں اور ہمارا یہ مبلغ زیادہ عربی نہیں جانتا تھا مگر چونکہ دل میں ایمان تھا اس لئے مقابلہ کے لئے تیار ہو گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ عربی میں مباحثہ ہو۔چنانچہ عربی زبان میں مباحثہ ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مخالف مولوی سب بھاگ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم احمدیوں سے بحث نہیں کر سکتے یہ لوگ تو پاگل ہیں جنہیں ہر وقت مذہبی باتیں