تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 87 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 87

تاریخ احمدیت 87 جہازی کمپنی سے پروگرام طے ہو گیا لیکن ستمبر ۱۹۳۹ء میں دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے یہ پروگرام بھی منسوخ کرنا پڑا۔قیامِ پاکستان کے بعد اقوامِ متحدہ کی اسمبلی کے سالانہ اجلاسوں کے دوران میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عالیجاہ امیر فیصل ( حال جلالة الملک فیصل) کے ساتھ نیازمندی کے روابط پیدا ہونے پر میں نے ان سے حج کے لئے مکہ معظمہ حاضر ہونے کے متعلق مشورہ کیا۔انہوں نے فرمایا تم آؤ تو ہم سب انتظام کر دیں گے لیکن حج کے ایام میں موسم اس قدر گرم ہوتا ہے کہ باوجود ہر قسم کی سہولت کے ہم لوگوں کے لئے بھی اس کی برداشت مشکل ہو جاتی ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ چند سال انتظار کرو جب تک حج کے ایام میں موسم کسی قدر اعتدال پر آجائے۔۱۹۵۸ء میں عدالت کا اجلاس شروع فروری کی بجائے اوائل اپریل میں منعقد ہونا تھا۔میں نے ارادہ کیا کہ اس تاخیر سے فائدہ اٹھا کر میں عمرے کا پروگرام بناؤں۔ممکن ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے حج کی توفیق بھی عطا فرمائے اور اس فرض کی ادائیگی کے لئے مناسب سہولت بھی میسر فرما دے۔ان ایام میں خواجہ شہاب الدین صاحب جدے میں پاکستانی سفیر تھے میں نے ان کی خدمت میں اپنے ارادے کی اطلاع کر دی۔ان دنوں کراچی سے کوئی پرواز براہِ راست جدے نہیں جاتی تھی۔کراچی سے جدے جانے کے لئے دہران یا بیروت سے ہوکر جانا پڑتا تھا۔مجھے مشورہ دیا گیا کہ بیروت سے جانے میں سہولت رہے گی۔چنانچہ میں ۱۷ / مارچ ۱۹۵۸ء کو جدہ پہنچ گیا۔خواجہ شہاب الدین صاحب کمال شفقت سے مطار پر تشریف لائے ہوئے تھے۔مصر ہوئے کہ میں ان کے ہاں پاکستانی سفارت خانے میں قیام کروں۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے میرے عمرہ کے لئے حاضر ہونے کا ذکر جلالۃ الملک سعود کی خدمت میں کیا تھا جس پر جلالہ الملک نے فرمایا کہ وہ ہمارا مہمان ہوگا۔خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مہمان تو آپ کا ہی ہوگا اور سب انتظام بھی آپ ہی کی طرف سے ہوگا لیکن آپ کی اجازت سے اگر اس کی رہائش ہمارے ہاں ہو تو ہم اس کے طبی پر ہیز اور عادات سے واقف ہونے کے باعث اس کے خورونوش کا انتظام اس کی جلد ۲۰