تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 86
تاریخ احمدیت 86 جلد ۲۰ اور عرفات بھی گیا )۔۲۱ ر کو ریاض گیا۔۲۲ کو واپس آیا۔اسی شام پھر طواف کے لئے گیا اور حرم شریف میں نوافل بھی ادا کئے۔۲۳ کو مدینہ شریف گیا اور کل واپس آیا۔آج پھر عمرہ ادا کیا۔ابھی مکہ مکرمہ سے لوٹا ہوں۔پہلے عمرہ کے دوران میں خانہ کعبہ کے اندر بھی نوافل ادا کرنے اور دعائیں کرنے کا موقعہ میسر آیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس تمام دوران میں بفضل اللہ ( دینِ حق ) ، سلسلہ حقہ احمدیہ ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مکرم صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام و جمله بزرگان و احباب و عزیزان و متعلقین کے لئے دعاؤں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا با فراغت موقعہ ملا اور توفیق عطا ہوئی۔فالحمد للہ۔جدہ میں میں مکرمی جناب خواجہ شہاب الدین صاحب سفیر پاکستان کے ہاں ٹھہرا۔جہاں ہر طرح سے آسائش نصیب ہوئی۔فجزاء اللہ احسن الجزاء۔باقی سب مقامات پر اور حجاز اور ریاض کے سفروں میں میں جلالۃ الملک ملک سعود کا مہمان تھا۔ان کی طرف سے تمام انتظام نہایت آرام دہ تھا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔آج براسته بیروت دمشق واپس جا رہا ہوں۔وہاں سے ۳۰ کو روما جائیں گے۔(بشری اس دوران میں دمشق اپنی والدہ کے پاس ٹھہری تھیں ) اور ۱٫۸ پریل کو انشاء اللہ ہیگ پہنچیں گے۔وباللہ التوفیق۔والسلام خاکسار ظفر اللہ خان۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی معرکہ آراء تالیف تحدیث نعمت میں دیار حبیب کے مبارک سفر کے حالات پر نہایت روح پرور انداز میں روشنی ڈالی ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں : - ” میں نے بچپن میں سنا تھا کہ میرے دادا جان چوہدری سکندر خاں صاحب مرحوم نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔اس وقت میرے دل میں اس فریضہ کی ادائیگی کا اشتیاق تھا۔انگلستان میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے نومبر ۱۹۱۴ ء میں حج کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔ٹکٹ جون ۱۹۱۴ء میں ہی خرید لئے گئے تھے۔اگست ۱۹۱۴ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی جس سے یہ پروگرام درہم برہم ہو گیا۔۱۹۳۹ء کی گرمیوں میں پھر ارادہ کیا کہ جنوری ۱۹۴۰ء میں اس فریضے کی ادائیگی کی جائے۔