تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 88 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 88

تاریخ احمدیت 88 ضرورت کے مطابق کر سکیں گے۔اس پر جلالتہ الملک نے اس شرط پر اجازت دے دی کہ باقی سب انتظام سفر وغیرہ کا اور مکہ معظمہ میں قیام کا سعودی محکمہ ضیافت کی طرف سے ہوگا۔خواجہ صاحب کے ہاں مجھے ہر سہولت میسر رہی ان کی مہمان نوازی مشہور ہے اور میں کراچی میں بھی اس سے متمتع ہوتا رہا تھا۔جدے میں بھی وہی کیفیت تھی۔ان کی بیگم صاحبہ محترمہ کی طرف سے بھی میں نهایت تواضع کا مورد رہا۔فجز اھم اللہ خیرا۔۱۸ / مارچ بعد نماز فجر مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہوا۔سفارت خانہ کے سپرنٹنڈنٹ میرے ہمراہ تھے۔اس سفر میں دل میں جذبات کا جو ہیجان تھا اس کا بیان الفاظ میں مشکل ہے۔البتہ ظاہری مناسک کا خلاصہ بیان ہوسکتا ہے۔ہر دل اپنی کیفیات اور اپنے ظرف کے مطابق باقی کا قیاس کر سکتا ہے۔جدہ سے نکلتے ہی تلبیہ کا ورد شروع ہوتا ہے۔حرم کی حدود سے تھوڑے فاصلے پر پہلے حدیبیہ کا مقام آتا ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا اور جہاں قریش کے نمائندے سہیل کے ساتھ آخری شرائط صلح طے یا کر معاہدہ لکھا گیا تھا۔یہاں اب ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں میں نے دو نفل ادا کئے۔حدود حرم کے نشان کے طور پر سڑک کے دونوں طرف ستون ایستادہ ہیں۔یہاں سے شروع ہو کر مختلف مقامات پر دعا مستحب ہے۔مکہ معظمہ کی آبادی کے قریب مقام مدعی ہے۔مکہ معظمہ جاتے ہوئے کعبہ شریف کی چھت پہلے پہل اس مقام سے نظر آیا کرتی تھی اب درمیان میں مکانات بن جانے کی وجہ سے وہاں سے نظر نہیں آتی۔شہر مکہ معظمہ کے نظر آنے پر بھی دعا مستجب ہے اور پھر شہر میں داخل ہوتے وقت بھی۔میرا قیام فندق مصر میں ہوا۔سامان رکھتے ہی مسجد حرام حاضر ہوئے۔خانہ کعبہ کی دید سے آنکھیں روشن ہوئیں ، طواف کی سعادت حاصل ہوئی۔طواف کی تکمیل پر مقام ملتزم پر کھڑے ہو کر در کعبہ کی دہلیز پر ہاتھ رکھے کامل محویت اور گداز کی حالت میں دعا کی توفیق عطا ہوئی۔فالحمد للہ۔اسی حالت میں محسوس ہوا کہ کعبہ شریف کا دروازہ کھل گیا ہے۔کعبہ شریف کے اندر داخلہ نصیب ہوا۔پہلے اس مقام پر کھڑے ہوکر جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ۲۰