تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 753 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 753

دوران گفتگو جب آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی گئی کہ بعض ملفوں میں نمانہ اردو میں پڑھنے کا رجحان پیدا ہورہا ہے تو اس اس کو غیر بستن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ انگریز کا راج ختم ہو چکا ہے پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے لیے انگریزی زبان سے تعلق کیسر منقطع کر لینا ممکن نہیں ہے۔؟۔ہم مجبور ہیں کہ ابھی انگریز می کو کسی نہ کسی رنگ میں برقرار رکھیں کیا وہ زبان میں میں قرآن مجید نازل ہوا اور بے دینی نکتہ نگاہ سے بنیادی اہمیت حاصل ہے اس قابل ہے کہ ہم اس سے اپنا تعلق منقطع کر لیں ؟ ؟ - نہیں تو چاہیے کہ ہم عربی زبان کو زیادہ سے زیادہ اپنائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ مقبول بنائیں۔اس کا ایک آسان طریق یہ ہے کہ ہم نے غیر زبانوں کے جو مشکل الفاظ اختیار کر رکھے ہیں حالانکہ ہم میں سے اکثر ان کے صحیح یعنی اور مفہوم سے پورے طور پر آشنا بھی نہیں ہوتے انہیں ہم ترک کرنے کی کوشش کریں اور ان کی بجائے اپنی روز مرہ بول چال میں زیادہ سہل عام فہم اور موزوں و مانوس الفاظ استعمال کرنے کی عادت ڈالیں مثال کے طور پر آپ نے فرمایا عام طور پر ہمارے ہاں کھانے پینے کی دکانوں کے لیے ہوٹل اور کیفے کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان کی بجائے بآسانی عربی الفاظ اختیار کیے جا سکتے ہیں۔اگر کھانے وغیرہ کی دکان کے لیے مطعمہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔اسی طرح ہوائی جہازوں کے اترنے کی جگہ کے لیے ہم نے ہوائی اڈہ کا لفظ اختیار کر رکھا ہے کوئی وجہ نہیں کہ ہم عربی زبان سے اپنے لگاڈ اور تعلق کی بنا پر اس کے لیے مطار کا عربی لفظ استعمال نہ کریں جو زیادہ پہل اور بناء پہ اور مختصر ہے اس طرح روز مرہ کی بول چال میں عربی زبان کو رواج دینے سے ہم عربی زبان سے اپنے تعلق اور لگاؤ کو بڑھا سکتے ہیں یہ اب بیرونی احمدیہ مشنوں کی ر۱۹۵۷ء میں تبلیغی سرگرمیوں بیرونی مشنوں کی سرگرمیاں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جاتی ہے۔مشن کے انچارج مولود احمد خاں صاحب نے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بارہ مختلف انگلستان مشن روٹری کلبوں میں لیکچر دیئے جن کا بالعموم موضوع اسلام تھا۔ان تقاریر پر حاوی پریس کا تبصرہ بہت دلچپ تھا۔چنانچہ اخبار میکنے گزٹ لنڈن ایڈور ٹائنز MRCHNE GAZETTE) ه الفضل یوه ۲۱؍ دسمبر ۱۹۵۷ء صا