تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 754
ADVERTISE) LONDON نے اپنی در فروری ۱۹۵۷ء کی اشاعت میں لکھا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ یہاں مذہبی امور میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جاتی مگر میکنے روٹری کلب کے ہفتنہ داسا جلاس میں جو ابھی منگل کو منعقد ہوا یہ معاملہ پر کی ثابت ہوا۔شاید یہ بیت الفضل لندن کے امام مسٹر موارد احمد خان کی رجو در انڈرز در تھے روٹری کلب کے نمبر ہیں) اسلام سے متعلق : انکا نہ لیکچر کا نتیجہ تھا۔سوالات کے وقفہ کے دوران ممبران نے کئی سوالات کیسے لیکن ایک سوال حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا جو میتھوڈسٹ سنردل ہاں کے پادری جان سٹیون فشر ( STEVEN FISHER) کا سوال تھا اور وہ یہ کہ عورتوں کے بارہ میں اسلام کی تعلیم کیا ہے : معزز مقرر کے جواب سے معلوم ہوتا تھا کہ اسلام نے عورتوں کو بھی ان کے حقوق دیئے ہیں اور ان میں حکمت ، وراثت اور طلاق وغیرہ کے معاملات بھی شامل ہیں لیکن انہوں نے مزید بتایا کہ عورتوں کی نگہداشت کا فرض مرد کے ذمہ لگایا گیا ہے۔طلاق کے مسئلہ کیا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام طلاق کو جائز قرار دیتا ہے اور اس معاملہ میں سرد اور ورث دونوں کے حقوق مقرر ہیں۔اسی طرح اخبار دی گرئیر لنڈن روڈ میں میگزین THE GREATER LONDON) (RODIUS MAGAZINE نے لکھا روٹری کلب کے حالیہ اجلاس میں موادود احمد خان امام بیت الفضل لذت نے ایک غیر معمولی نظریہ بعنوان اسلامی دنیا کی اسلام کے متعلق ان کے نظریات نے اس درجہ مونی پیدا کر دیا۔کہ مہر علی کو منسار سوالات بند کرنے میں خاص دشواری پیش آئی۔فاضل مقریر نے تعدد ازدواج کو اسلامی نقطہ نگاہ سے جائزہ قرار دیا۔ردشگری کتاب کے علاوہ سلاد ( SLOUGH) کی در گرز یونین کے ممبران سے بھی آپ نے خطاب کیا اور اسلام کی عالمگیر تقسیم ہر روشنی ڈالتے ہوئے سامعین کو قبول اسلام کی دعوت دی یہ نظریہ بہت خاموشی تے سنی گئی اختتام پر بہت سے سوالات دریافت کیسے گئے انگلستان بشن کے زیر انتظام پندرہ۔رزہ لیکچروں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہا۔جن میں منڈن کے علاوہ نائیجیریا ، گیمبیا ، ٹرینیڈاڈ اور بھارت کے طلبہ نے بھی شرکت کی ۹۵۷اد کا پہلا پندرہ روزہ وار لیکچر ماہ جنوری میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے دیا جس میں آپ نے ناقابل تردید عقلی دلائل د برا امین سے تثلیث کار فرمایا۔سیکچر کے اختتام پر ایک مسیحی طالب علم نے اعتراف کیا کہ فاضل مقرر