تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 747 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 747

۷۳۲ responsibilities sagacity, forensic ability, and great experience in the field of international affairs۔(The Memoirs of Aga Khan- Page 321) ( تر جمہ ) گول میز کانفرنس کے زمانہ اور اس کے بعد کی کمیٹیوں کے میرے ممتا نہ ساتھی ظفر اللہ خان وزیر خارجہ ہیں جو بین الا قوامی معاملات میں اپنے وسیع تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس وزارت کی انتہائی مشکل ذمہ داریوں کو اپنی بھر اور ذہانت اور قانون مہارت سے بحسن وخوبی نباہ رہے ہیں 'It is formality to say that it was an honour to be chosen to lead so notable a body of man including personalities of the calibre of Mr۔M۔A۔Jinnah, later to be the creater of Pakistan and the Quaid-i-Azam or Sir Muhammad Zafrullah Khan for many years India's representative at humerous international congress and first Foreign Minister of Pakistan, or my old and tries friend Sir Muhammad Shafi, one of the founder of Muslim League۔' (The Memoirs of Aga Khan- Page 214-215) (ترجمہ) بغیر کسی تکلف کے ہیں یہ کہتا ہوں کہ ایسی قابل ترین ممتاز شخصیتوں پر مشتمل وفد کی رہنمائی میرے لیے ایک بہت بڑا اعزانہ متھا جیسے سر محمد علی جناح جو بعد میں پاکستان کے بانی اور قائد اعظم کہلائے یا سر ظفر اللہ خاں جو کئی سال بین الاقوامی کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے رہے اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے یا میرے پرانے مخلص دوست سر محمد شفیع جو کہ مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔اس سال بھائیوں نے چکوال رضلع جہلم میں اپنی تبلیغی سرگرمیاں بھائیوں سے کامیاب مناظرہ | تیزکردیں۔بلکہ تین چار سلمان بھائی بھی ہو گئے جس سے علاقہ