تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 737
۷۲۲ نیا سنگ میل ثابت ہوا کیونکہ اس دوران یہاں ٹیلیفون جاری ہوگیا اور ارجنوری ۱۹۵۷ کو تلیفون ایکس مینی کھول دیا گیا۔ابتداء میں حسب ذیل پور میں ٹیلیفون نصب ہوئے۔سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب المعلم الموعود، پرائیویٹ سیکرٹری خلیفہ المسیح مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ، مرزا مبارک احمد صاحب ، مرزا منور احمد صاحب ، نواب محمد احمد خاں صاحب مرزا حفیظ احمد صاحب، ناظر صاحب بیت المال ، افسر صاحب امانت ، پرنسپل صاحبہ جامعہ نصرت وكيل الزراعثت صاحب تحریک جدید ، خدام الاحمدیہ مرکز یہ ، اخبار الفضل ، ناظر صاحب اعلی صدر انجمن احمدیہ پاکستان ، ناظر حفاظت ، ناظر صاحب امور عامه ، جنرل سیکر ٹری لجنہ اماء الله ، فضل عمر ہسپتال، افسر انچار نا صاحب ایم این سنڈیکیٹ ، میاں غلام محمد صاحب اختر، ٹیلیفون ایمپین انکواری به پبلک کال آهن، سرگودہا رنگ کال سیکرٹری میونسپل کمیٹی۔ربونه صدر شام شکری القوتی کو تحفہ قر آن جماعت احمدیہ ڈھاکہ کے ایک وفد نے جناب عبدالقادری صاحب قرآن مہتہ کی زیر قیادت مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۷ ۶ گورنمنٹ ہاؤس میں شام کے صدر السید شکری القوتلی سے ملاقات کر کے ان کی خدمت میں انگریزی ترجمہ القرآن کا تحفہ پیش کی صدر موصوف اپنے دس روزہ دورہ پاکستان کے سلسلہ میں ڈھاکہ تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ تحفہ ایک نہایت خوبصورت بکس میں جو اس غرض کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا تھا ان کی خدمت میں پیش کیا گیا۔صند و نچھے میں چاندی کی ایک تختی پر صدر موصوف کا نام کندہ تھا۔نیز اس پہ ایک طرف ممبران وفد کے نام درج تھے۔علاوہ ازیں صدر مومون کی خدمت میں اس موقعہ پر عربی زبان میں نہایت نفاست سے فریم کیا ہوا خوش آمدید کا ایک ایڈریس بھی پیش کیا گیا۔ایڈریس کا خلاصہ یہ تھا کہ سه روزنامه الفضل ۱۲ جنوری 1906 خدمت له ابن حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی۔ناه ولادت ۱۸۹۱ و درفات ۱۹۶۷ مشهور عربی سیاسی مدیر۔شام کو فرانسیسی استعمار سے آزادی ملی تو لک کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔بعد ازاں کئی بار انتخاب میں کامیاب ہوئے۔آخر می انتخاب 1400ء میں ہوا۔آپ اتحاد شام ومصر کے زبر دست حامیوں میں سے تھے مگر بعض حالات کے باعث یہ اتحاد قائم نہ رہ سکا اور آپ نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔