تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 738
۷۲۳ جماعت احمدیہ اگر چہ بلحاظ تعداد ایک چھوٹی سی جماعت ہے تاہم اس نے دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو سر بلند کرنے اور اس کی اشاعت کا فریضہ ادا کرنے کے سلسلہ میں ایک عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی ہوئی ہے اس جماعت کے افراد اپنے موجودہ امام سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمو د احمد کی زیہ ہدایت رومانیت کی پیاسی دنیا کے دور دراز علاقوں تک دین حق کے نور کو پھیلانے میں مصروف ہیں نہ افریقہ کے بیابان جنگل اور تپتے ہوئے صحرا جہاں نئی تہذیب اور نئے تمدن کا ابھی سایہ بھی نہیں پڑا ان کی پہنچ سے باہر ہیں اور نہ مغرب کے وہ متمدن شہر نہیں اپنی مادی اور سائنسی ترقی پہ نانہ ہے ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں مشرق و مغرب میں دین حق کو سر مبند کرنے کی ایک سعی پیہم ان کا طرہ امتیاز ہے۔اس وقت جماعت کے سینکڑوں اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جو پاکستانیوں بولوں ، جرمنوں امریکیوں اور دوسری قوموں کے افراد پر مشتمل ہیں خدمت دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔ایسے ایثار پیشہ نوجوانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور وہ دنیا کے دور دراز علاقوں میں خدمت دین کا فریضہ ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ان کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالے کا پیغام روئے زمین پر بسنے والی تمام قوموں تک پہنچ جائے۔اور وہ سماجی انصاف اور اخوت و مساوات کی اسلامی تعلیم سے کما حقہ واقف ہو کہ اس کو اپنانے پر آمادہ ہو جائیں اسی عزم کے پیش نظر جماعت احمدیہ نے دنیا کی تمام اہم زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے علاوہ ازیں دنیا کے مختلف علاقوں میں میوت الذکر تعمیر ہو رہے ہیں۔آپ دوستی اور اخوت کے ان رشتوں کو اور زیادہ مستحکم کرنے کی غرض سے تشریف لائے ہیں جو اسلام کی بعثت کے وقت سے ہمارے اور آپ لوگوں کے درمیان قائم چلے آرہے ہیں۔ہم سب ایک ہی قسم (یعنی ملت) کے مختلف اعضاء ہیں۔ہم سب کا دین ایک۔کتاب ایک۔قبلہ ایک ہے اور ہم سب اللہ تعالی کے ایک ہی رسول کی اُمت اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ہم ہیں آنحترم کے انتہائی مخلص ممبران و مدر جماعت احمدیہ (1) عبد القادر بہتہ (قائد وفا (۲) چوہدری مختار احمد