تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 736 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 736

۷۲۱ ممبران وفد نے ربوہ کے مختلف ادارے دیکھنے کے علاوہ سید نا فر یا رہو سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا نیز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کا نبی کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔6 جنوری کی شام کو دکالت تبشیر کی طرف سے وفد کے اعزاز میں عصرانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقعہ پر وند کے لیڈر جناب دائی۔ایل۔ایم۔منصور نے نظر یہ کرتے ہوئے اکناف عالم میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔تقریر کے دوران انہوں نے گزشتہ چند صدیوں میں مسلمانوں کی ابتر حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر پہ نہ دور دیا کہ سلمانوں کو پھر سے اٹھانے اور انہیں بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان میں اعلیٰ روحانی اقدار پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔یہ کام ایک ایسی تنظیم کے ذریعہ ہی انجام پا سکتا تھا جو سیاست سے بالا رہتے ہوئے روحانی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کرے۔سو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت احمدیہ کے ہاتھوں اس اہم کام کی بنیاد پڑچکی ہے۔نہیں معلوم ہے کہ اس جماعت کو مخالفت کا بھی سامناکرنا پڑ رہا ہے لیکن اصلاح در تی کا کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں ہے جس میں مخالفت سے دوچار نہ ہونا پڑے ، مدر اس سے۔در اس سے لے کر ربوہ تک راستہ ہمیں جماعت احمدیہ کی مختلف شاخیں نہیں خوش آمدید کہتی رہی اور ہمیں خوش آمدید کہتی رہی ہیں۔ان سے مل کر اور حالات کا بچشم در مطالعہ کر کے ہمیں جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کے متعلق بہت کچھ علم حاصل ہوا ہے اور جو اہم کام یہ جماعت سر انجام دے رہی ہے اس سے ہم لوگ بے حد متاثر ہوئے ہیں۔جناب وائی۔اہل۔ایم۔منصور نے تقریبہ جاری رکھتے ہوئے کہا لاہور وغیرہ میں بعض لوگوں نے یہ کوشش بھی کی کہ ہم ربوہ جانے کا ارادہ ترک کر دیں۔لیکن ہم جماعت احمدیہ کا مرکزہ دیکھنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔چنانچہ ہم یہاں آئے۔ہمارا تاثر یہ ہے کہ جماعت احمدیہ اپنے عقائد پھیلانے میں کسی جبر یا دباؤ سے کام نہیں لیتی۔وہ صرف عقل کو اپیل کرتی ہے اور فیصلہ دوسرے پر چھوڑ دیتی ہے کہ وہ ذاتی کوشش اور جدو جہد کے نتیجہ میں حق کو قبول کرے لیے ریوہ میں ٹیلیفون کا احتراء ہ جنوری ۱۹۵۷ء کا دوسرا ہفتہ مرکز احمدیت ربوہ کی ترقی کے لیے ایک ه الفضل درجنوری ۱۹۵۰ء مراد