تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 692
466 خالد احمدیت مک عبدالرحمن صاحب غلوم گجراتی کی وفات ۱۹۵۷ء کے عام الحزن کا اختام خالد احمدیت حضرت ملک عبدالرحمن خادم صاحب بی اسے ایل ایل بی وکیل گجرات کے المناک قومی سانحہ وفات پر ہوا۔حضرت ملک صاحب سلسلہ احمدیہ کے بلند پایہ مناظر ، نامور مصنف ، مخلص و غیور خادم شگفتہ مزاج ، قانون دان اور نکتہ رس اور متجر عالم دین تھے۔آپ حضرت برکت علی صاحب کے لخت جگر تھے۔اور سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے عہد مبارک میں ۱۳ نومبر ۱۹۰۹ ء کو (مطابق ۲۹ شوال ۱۳۲۷ ہجری بروز ہفتہ) پیدا ہوئے دیعنی سید نا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ المسیح الثالث کی ولادت با سعادت سے صرف تین روز قبل آپ نے مڈل کا امتحان ہمشن اسکول گجرات سے اور میٹرک انٹر میڈیٹ کالج گجرات سے ۱۹۲۶ ء میں کیا ۱۹۲۰ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایٹ بنے۔فرماتے تھے کہ اس وقت سارے کالج میں صرف یک واحد مسلمان سٹوڈنٹ تھا جس نے له والد ماجد کا نام ملک وزیر بخش ولادت قریباً ۱۸۶۹ء دنات ۱۲۰ دسمبر ۱۹۵۱ د حضرت ملک برکت علی صاحب گجرات سے تعلیم حاصل کر کے بغرض لماذمت لاہور میں مقیم تھے اور پیر جماعت علی شاہ کی بعیت میں تھے کہ آپ کو ا کا ڈنٹنٹ جنرل لاہور کے ایک غیر احمدی میاں شرف الدین صاحب کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی پر معارف کتب کے مطالعہ کا موقعہ ملا ازاں بعد اعظم اور لیکھرام سے متعلق پیش گوئیوں کا ظہور ہوا جس پر آپ نے ۱۸۹۸ ء میں بیعت کا خط لکھ دیا تھا پھر ۰ ۱۹ ء یا ۱۹۰۲ ء میں قادیان دارالامان میں جاکر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا در جبر روایات جلد اما تا منه ) گے ولادت اور طالب علمی سے متعلق بعض معین تواریخ پندره روزه " پیام گجرات یکم ستمبر ۱۹۵۶ء ( منقول العضل ۲۳ جنوری ۱۹۵۸ء سے اخذ کی گئی ہیں اور اس اعتبار سے مستند ہیں کہ حضرت ملک صاحب مرحوم کی زندگی میں شائع ہوئیں اور قیاس غالب یہ ہے کہ آپ کی مہیا کردہ معلومات کی بناء پر مرتب ہوئیں۔(واللہ اعلم بالصواب)