تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 693
ڈاڑھی رکھی ہوئی تھی۔آپ کو دین سے عشق اور جوش تبلیغ اپنے والد معظم سے در نہ میں ملا تھا جو طلق جرات میں نائب مہتم تبلیغ تھے۔آپ کو بچپن ہی سے حضرت مسیح موعود اور خلفاء کی کتب سے دلی شفف تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور ساتھ ہی آپ کے تبلیغی بذبہ میں بھی غیر معمولی اضافہ کا موجب بنتا گیا۔آپ قلم و زبان کی زبر دست صلاحیتوں اور استعدادوں کے حامل تھے جن کو آپ نے طالب علمی کے دور ہی سے خدمت دین کے لیے عملاً وقف کر دیا۔چنانچہ مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد چوہدری بشیر احمد صاحب سے مل کہ گجرات میں لیگ الیوسی اسیشن کی بنیاد رکھی جس کے صدر اور روح رواں آپ ہی تھے۔۱۹۲۵ ء میں جبکہ آپ نویں جماعت میں پڑھتے تھے آپ نے مشن ہائی سکول کے وسیع احاطہ میں مہند دستان کے مشہور پادری عبدالحق صاحب سے کامیاب ناظرہ کیا۔اس کے بعد گجرات کے آریہ سماج اور غیر احمدی علمائن سے مناظرے شروع ہو گئے جس سے ضلع بھر میں آپ کی دھاک بیٹھ گئی لیے دو مولانا ابو العطاء صاحب کا بیان ہے :- ۱۹۲۶ء کے مارچ میں کھاریاں ضلع گجرات میں مجھے جبکہ میں ابھی حضرت استاذی المحترم حافظ روشن علی صاحب کے پاس پڑھا کرتا تھا) ایک جلسہ کے لیے جانا پڑا۔اس موقع پر پہلی مرتبہ برادرم خادم صاحب سے ملاقات ہوئی آپ کی عمر اس وقت ۱۵ ۱۶ برس ہوگی۔یہ پہلی ملاقات ایسی محبت اور اخور کی را سیخ بنیاد بن گئی جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔للہی محبت اور پر خلوص تعلق کے یہ نہیں برس آج ایک خواب نظر آتے ہیں۔محترم خادم صاحب اس وقت دسویں جماعت میں پڑھتے تھے انہیں علیم دین کا بے حد شوق تھا۔ہر جگہ معلومات حاصل کرنے کی انہیں بھن مھتی۔عنفوان شباب - ہی وہ مخالفین اسلام واحمدیت کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جایا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں مقبل ذہن کے ساتھ خاص قوت گویائی بھی عطا فرمائی سختی اور یہ کہنا ذرہ بھر مبالغہ نہیں کہ جناب ملک صاحب نے ان مواہب لدنیہ کو میشہ دین کی خاطر خر پا گیا ہے لہ تفصیل چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت احمدیہ گجرات کے قلم سے آگے آرہی ہے : کہ رسالہ " الفرقان خادم نمیره جنوری ۱۹۵۹ ۶ ص۲ سے