تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 671
کے متعان مجھے لکھا کہ اسے جامعہ میں داخل کر کے خدمت دین کے لیے تیار کیا جائے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عرفانی کبیر کے درجات بلند کرے اور ان کے سارے خاندان پہ اپنی برکات نازل فرمائے اور انہیں اپنے مخلص ترین اور سلسلہ کے سچے عاشق بزرگ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشتے آئین سے ۲ - حضرت عرفانی صاحب بطور مورخ اپنا فر من سمجھتے تھے کہ کاروان روحانیت سے جدا ہو جانیوالے ہر ہم سفر کا ذکر خیر کریں پرانے رفقاء میں سے ہر ایک کے بارے میں۔ان کے پاس معلومات کا ایک ذخیرہ تھا ذاتی طور پر بھی ان کے تعلقات بہت وسیع تھے اور اخبار نویس کی حیثیت سے بھی انہیں معلومات حاصل تھیں۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دل بھی ایسا دیا تھا کہ وہ ہر ایک مصیبت زدہ کی مصیبت پر ریج جا تا تھا اس لیے آپ تمام بزرگان سلسلہ کے ذکر خیر کو قائم کرنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے اور جہاں تک ان کے لیے ممکن ہوتا تھا وہ صالحین کے نیک نام کو پائیدار بنانے میں کوشاں رہتے تھے۔یہ بات ان کی دلی پاکیزگی اور احباب سلسلہ کے ساتھ ان کے دلی لگاؤ کا ایک بین ثبوت ہے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے درمیان جو اخوت قائم کی ہے اس میں اضافہ اور اس کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بزرگانِ دین اور فدایان سلسلہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں ان کی محبت بڑھے اور وہ ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلیں اس خاص خصوصیت کی سے جو حضرت عرفانی صاحب کو حاصل تھی ان کا بھی حق ہے کہ سلسلہ کے احباب ان کے ذکر خیر کو قائم یکھیں اور نئی پود کو صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید کے طور پر اس کا اہتمام کریں۔واقعہ یہ ہے کہ ایسے بزرگ اس امر کے محتاج نہیں ہوتے کہ ان کا ذکر کیا جائے لیکن در حقیقت اس کی ضرورت بعد کے لوگوں اور نئی نسلوں کو ہوتی ہے۔اللہ تعالے حضرت عرفانی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں انہیں خاص مقام عطا فرمائے آمین۔سے ہر گنه نمیرد آن که دلش زنده شد بعتق ثبت است بر حمیده عالم درام مالے ه ره وز نامه الفضل - یوه مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۵۷ء ص : N ۱۷ رمبر ۱۹۵۷ء م۵