تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 670 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 670

400 امتیانہ حاصل ہے کہ آپ بیعت کے بعد دعوت احمدیت کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے چونکہ اللہ تعالی نے آپ کو مؤثر تسلیم عطا فرمایا تھا اس لیے آپ نے تحریر کے ذریعہ سے سلسلہ کی خدمت پر کمر ہمت باندھ لی اور آخر تک ایک کامیاب صحافی اور بہترین مصنف کے طور پر آپ نے زندگی بسر کی قوت گویائی بھی وافر عطا ہوئی تھی اور آپ کی پر جوش اور ولولہ انگیز تقاریر بھی اسلام و احمدیعت کی خدمت کے لیے وقف تھیں آپ سلسلہ کی تاریخ کے بہت بڑے ماہر تھے بلکہ آپ کا سینہ ان سارے رافعات و مشاہدات کا خزینہ تھا۔آپ کی وفات سے ایک عظیم خلا پیدا ہو گیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اب کہاں حضرت میں موعود پیدا ہوں اور کہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت عرفانی صاحب کبیر ایسے بے مثال عشاق زمین پر نمودار ہوں۔حضرت عر نانی صاحب کی زندگی سراسر متو کلانہ زندگی تھی۔فقر و تنگدستی کے با وجود را با غیرت تھے عزت نفس کا نمونہ تھے۔غیروں کے آگے کبھی جھکتے والے نہ تھے ہاں مومنوں کے سامنے موم جسم تھے حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی آپ کو والہانہ عشق تھا میں قادیان میں خلافت ثانیہ کے آغاز میں ۱۹۱۶ ء یعنی ار از سال کی عمر میں طالب علم کے طور پہ آیا تھا۔چونکہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کا اصل وطن جاؤ لہ ضلع جالندھر تھا یہ گاؤں ہمارے گاؤں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر تھا اس لیے مجھے شروع طالب علمی سے ہیں حضرت شیخ صاحب سے واقفیت تھی اور انہیں بھی مجھ سے بہت پیار تھا مجھے وہ نظارہ نہیں بھول سکتا جیب میں مدرسہ احمدیہ سے پڑھ کہ دوپہر کے وقت کرتا ہیں اٹھائے دار الفضل کے بیرونی محلہ کو جاتے ہوئے حضرت شیخ صاحب کے دفتر در مکان کے سامنے سے گزرتا اور شیخ صاحب مرحوم حسب دستور باہر بیٹھے لکھتے یا ٹہل رہے ہوتے۔تو دور سے ہی دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرماتے آئے جی سوامی ایشور انند جی اور پھر دو چار منٹ بیٹھا کہ کوئی علمی اور روحانی بات هنر در بیان فرماتے اور بارہ کہتے کہ ایشو رانند" میں اللہ تا " کا ترجمہ کرتا ہوں اسے بڑا نہ مائیں۔از حضرت شیخ صاحب کو اپنے ہونہارا در خادم دین فرزند حضرت شیخ محمود احمد صاب عرفانی کی وفات کا بہت صدمہ تھا مگر صبر و استقلال کا آپ نے بہترین نمونہ دکھا یا آپ کی بڑی خوامش منی کہ میری اولاد میں سے واقف زندگی خادم دین ہوں گزشتہ سال اپنے ایک پوتے کے