تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 672 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 672

ملک صلاح الدین صاحب ولف" اصحاب احمد نے اپنے ایک مضمون میں حضرت عرفانی صاحب کی سیرت و سوانح اور کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا :۔در سنضرت شیخ صاحب کے گوناگوں دمای جمیلہ کا ذکر ایک ہی صحبت میں کیا جانا ممکن ہے۔آپ کی خدمات احمدیت کا دامن قریبا اکسٹھ سال پر مند ہے۔آپ حقیقی معنوں میں بابائے تاریخ احمدیت تھے ، آپ کو تاریخ سے سے فطری لگاؤ تھا اور شروع سے اس کی دُھن تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ولادت بعثت تک کے واقعات کا ایک انمول ذخیرہ نہایت محنت و کاوش سے جمع کیا۔جو کہ بالعموم اسبارہ بین حریت آخر کا سارنگ رکھتا ہے۔اور اس میں بظا ہر کسی اضافہ کی گنجائش نہیں۔۱۸۹۸ ترمیں آپ مدرسہ کے تعلق میں قادیان بلائے گئے۔اور الحکم اختبارہ آپ قادیان میں ہی لے آئے۔جو کہ سلسلہ احمدیہ کا پہلا اختبار تھا اورکم و بیش چار سال تک یہ سلسلہ کا واحد اخبار رہا۔اور اس کے ذریعہ حضور کے مکاتیب مواعیظ - خطبات اور ملفوظات اور حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم مصاب کے خطبات اور مضامین اور دیگر بہت ہی مفید باتوں کی اشاعت ہوتی تھی سلسلہ کی بیش قیمت تاریخ کا صحیح ذخیرہ ہی اختیار ہے۔کئی سال بعد البدر کا اجراء ہوا۔ہر دو اخبارات کی افادیت اس امر سے ظاہر ہے کہ دونوں کو حضرت اقدس نے اپنے بازو قرار دیا۔کیونکہ حضور کے مشن کی تقویت کا باعث تجھے حضور کی وحی کا ایک کثیر حصہ صرف ان ہی کے ذریعہ محفوظ ہوا۔- تاریخ سلسلہ سے واقفیت رکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ وہ کام جو اس وقت ناظر امور عامہ سر انجام دیتے ہیں۔نبینی اعتبار سے تعلقات حکومت کو توجہ دلانا۔اس کا ایک کافی حصہ حضرت عرفانی صاحب سر انجام دیتے تھے۔حضرت اقدس کے چچا زاد بھائی حضور کے شدید مخالف تھے ان شیخ صاحب میل ملاقات رکھتے تھے اور ان سے کئی کام کر دا لیتے تھے شیخ صاحب اخبار کے ذریعہ حکورت کو ضروری امور کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے۔اس وقت مختلف نظارہ نہیں قائم ہیں۔ابتداء میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جماعت کو ان کے فرائض کی یا دووان کراتے رہتے تھے اور اس بارہ میں مسلم اپنے طور پر احباب کو توجہ دلانے پہ آمادہ رہتا تھا۔خلافت اولی میں بہت سے امور کی طرف الحكم صدر انجن احمدیہ کی توجہ منعطف کرتا رہا۔سو یہ امور