تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 647 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 647

۶۳۲ جہاں تک اخبار کے اجراء کا تعلق تھامسیح پاک علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کا شرف حاصل کرنے والے با ہمت نوجوان حضرت عرفانی الاسدی ہی تھے آپ نے اکتوبر ۱۸۹۷ ء میں الحکم کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا۔اگرچہ مال ذمہ داری کے لحاظ سے یہ آپ کی انفرادی ہمت کا نتیجہ تھا تاہم یہ جماعت کا اخبار تھا اور جماعت کی عمومی نگرانی کے ماتحت تھا اس کے ذریعہ جماعت کی ایک ہم ضرورت پوری ہوئی اس اخبار کے ذریعہ حضرت عرفانی الاسدی نے جو مہتم بالشان خدمات سر انجام دیں ان پر مسیح پاک علیہ السّلام نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے الحکم کو جماعت کا ایک باند قرار دیا۔آپ کی ان خدمات کا اندازہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثاني المصلح الموعود کے اس والانامہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو حضور نے ۱۹۳۴ ء کے اوائل میں الحکم کے دوبارہ اجراء کے موقع پر آپ کو ارسال کیا اس میں حضور نے تحریر فرمایا : - دور حکم سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے اور جو موقعہ خدمت کا اسے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری زمانہ ہیں اسے اندر بلدرز کو ملا ہے وہ کروڑوں روپیہ خرچ کر کے بھی اور کسی اختبارہ کو نہیں مل سکتا۔میں کہتا ہوں کہ الحکم اپنی ظاہری صورت میں زندہ رہے بانہ ر ہے لیکن اس کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہے سلسلہ کا کوئی مہتم بالشان ام اس کا ذکر کیے بغیر نہیں ہوسکتاکیونکہ وہ تاریخ سلسلہ کا حامل ہے " رالحکم به ۴ ار جنوری ۶۱۹۳۴ بقول حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیز۔۔۔۔۔۔حضرت عرفانی الاسدی ان مبارک وجودوں میں سے تھے کہ جن کے ذریعہ اس زمانہ میں جب کہ آسمان نہ مین کے قریب تھا خدا ئے آسمان نے نئی آسمانی با دوستات میں کام لیا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہر صبح یا در بار شام میں وابسندگان دامن کو اپنے کلام فیض ترجہاں سے تفیض فرماتے تھے اس وقت حضرت عرفانی الاسدمی کا قلم ہر لفظ کو صفحہ قرطاس پر تیزی سے ضبط تحریر میں لاکر ان بیش بہا خزائن کو تمام زمانوں کے لیے محفوظ کر لیا تھا اور پھر وہ خزائن الحکم کی زینت بن کر ایک عالم کی روحانی تشنگی دور کرنے کا موجب بنتے تھے اور ہمیشہ بنتے رہیں گے یلہ له بحوالہ الحکم ۱۴ جنوری ۶۱۹۳۷ ! !