تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 648 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 648

۶۳۳ حضرت عرفانی الاسدی کو بالکل عنفوان شباب میں لدھیانہ کے مقام پر بیعت اولی کے دنوں میں مسیح پاک علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اس کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر یہ کہ حضور کے وصال تک برابر خدمات بجالاتے رہے الحکم کے ذریعہ سلسلہ کا ریکارڈ تاریخ حضور لملفوظات و خطبات اور وحی الہی کو محفوظ اور شائع کرنے کا فخر حاصل کیا مزید یہ آں حضور کے اکثر سفروں میں ساتھ رہے۔بہت سے معاملات جو مر نہ انظام الدین صاحب و مرزا امام الدین صاحب سے طے کرنے کے قابل ہوتے تھے وہ آپ کے ذریعے طے ہوتے رہے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے صدر انجمن کے اسسٹنٹ سیکر ٹی بھی رہے۔صدقات کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دیئے مقدمات کے سلسلہ میں مولوی کرم دین بھیں کو آپ کے مقدمہ میں سزا ہوئی تھی جس سے وہ بری نہ ہو سکا ان مقدمات کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو یہ الہام ہوا ان الله مع الذين اتقواو هم محسنون چنانچہ اس العام میں آپ بھی شامل تھے۔خلافت ثانیہ کے مبارک عہد میں بھی آپ کی خدمات بجالانے کے مواقع بکثرت میسر آئے ۱۹۲۴ء میں ویمبلے کا نفرنس کے موقع پہ آپ کو سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی معیت میں یورپ کے سفر پر جانے کا شرف حاصل ہو اچنانچہ افتتاح بیت فضل انڈین کے موقع پہ آپ وہ ہیں موجود تھے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بالخصوص المصلح الموعود سے آپ کو بے حد محبت اور عقیدت ملی آپ کے فرزند مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم کی روایت کے بہو جب آپ نے بارہا وصیت کے طور پر اپنی اولاد کو تاکید فرمائی کہ اختلافات ہیں اس اصل کو پکڑے رکھنا جد ہر اہل بیت ہوں اس طرف تم ہوتا کیونکہ خدا نے ان کو اپنی معیت کا وعدہ دے رکھا ہے جیسے فرمایا انى معك و مع اهدك اس سلسلہ میں حضرت عرفانی الکبیر نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اپنی وصیت شائع فرمائی۔میں آج ایک راز کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں۔میری اولاد جانتی ہے اُن کے پاس میرے خطوط موجود ہیں۔میں نے انہیں ہمیشہ یہ وصیت کی کہ یہ خلافت نہایت عظیم الشان خلافت ہے اس کی بہت ره مرکه احمدیت۔قادیان صفحه ۲۲۴ راز شیخ محمود احمد صاحب عرفانی )