تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 645
ملک صاحب ایک عالم با عمل تھے۔پنجابی، اردو، انگریزی، فارسی، عربی ، پشتو چھ زبانوں پر آپ کو عبور حاصل عفا پنجابی اردو، فارسی میں آپ شعر بھی کہتے تھے اور نظموں میں سے ایک نظم احمدی بچوں کا گیت ہے آپ کی ایک پنجابی نظم " پیغام نماز یا نصیحت بے نمازاں " نے بہت شہرت حاصل کی اور اسلامیہ سٹیم پریس کے پر و پر اٹر نے متعدد بار شائع کی آپ کا تخلص شاکرہ تھا آپ خوش خبط تھے دوران ملازمت میں آپ نے متعدد بار اپنی اردو انگریزی کی بہترین لکھائی پر العامات حاصل کیسے تھے۔مندر جہ بالا چھ زبانوں کے علاوہ آپ ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں کو بھی جانتے تھے ہر وقت مسلم کی جستجو میں رہتے تھے حتی کہ مر من الموت کے دوران میں آپ نے اپنے بڑے صاحبزادے ملک بشارت ربانی صاحب کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تفسیر صغیر منگوا نے کو کہا چنا نچہ رقم جمع کروادی گئی۔آپ جب طازمت چھوڑ کر آئے تو آپ کے افسر نے آپ کو روکنے کی بہت کوشش کی اور لکھا کہ میں نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ میرے سارے عملے میں عطاء اللہ جیسا قابل شخص کوئی نہیں اور آپ کا نام خان بہادری کے خطاب کے لیے بھیج چکا ہوں۔بعد ازاں آپ کو وزارت اور ایران میں نائب سفارت کی پیش کش بھی ہوئی مگر آپ نے قبول نہ کی لیے اول و 1 - مک بشارت ربانی صاحب - امنة الحفيظ صاحبہ روفات ۱۹۵۰ء) ۳- امتہ الحمید صاحبه ه۔محترم که نل اعجا زه ربانی صاحب - انة الرشيد صاحبه - الطاف ربانی صاحب - A رضیہ سلطانہ صاحبہ (وفات بعمر ۳ سال) اکرام به بانی صاحب روفات ۱۹۸۲ ۶م ۹ - امة العزيزة صاحبه ۱۰ - امتہ الحی صاحبہ ۱۱ - امتہ السلام صاحبہ (وفات بعمر به ماد) ۱۲۔ڈاکٹر محبوب ربانی صاحب له الفضل یکی دربار فروری ۱۹۵۰ در مضمون ملک محبوب ربانی صاحب نشتر میڈ یکل کا لج)