تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 644
۶۲۹ حضرت ملک صاحب کی شکل وجیہ ابا رعب ، ناک سنتوں ، آنکھیں بڑی بڑی اور روشن تھیں۔پیشانی کشادہ تھی۔بہت نفاست پسند تھے۔نمازہ تہجد کے سختی سے پابند تھے امام الصلواۃ کے فرائض بھی انجام دیتے رہے نماز تہجد کے بعد خوش الحانی سے تلاوت کرنا نماز فجر کے بعد پانچ چھے میں سیر کرنا آپ کا معمول تھا۔قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگ کے ایک جلسے کی صدارت کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح حجرات تشریف لائے جلسہ میں اس درجہ خوش الحانی سے تلاوت قرآن کریم کی کہ حاضرین کی آنکھوں سے آنسو آگئے قائد اعظم نے آپ کا نام پوچھا اور کہا کہ آج تک ایسا میں نے خوش الحان قاری نہیں دیکھا۔ور ثمین اردو - فارسی - عربی کی اکثر نظمیں آپ کو زبانی یاد تھیں اور روزانہ رات کو بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے کلام عمود کا خاصہ حصہ بھی آپ کو یاد تھا حضرت مسیح موعود کی دعائیہ نظمیں خاص طور پر پڑھتے تھے۔ملازمت کے سلسلہ میں آپ کا قیام ہندوستان کے بیشتر مقامات میں رہا۔مہندوستان سے باہر ایران - عراق - شام مصر - چین (ہانگ کانگ اور برما وغیرہ میں آپ کا قیام رہا۔فرانس جانے کا بھی آپ کو اتفاق ہوا۔مندرجہ بالا تمام مقامات پر اسلام اور احمدیت کو پھیلانے کی آپ نے ہر ممکن کوشش کی پشاور میں قیام کے دوران میں آپ نے سیکریڑی تبلیغ و نشر و اشاعت کی حیثیت سے نمایاں خدمات سر انجام دیں وفات مسیح ناصری - راه نجات و غیره رسالہ جات تصنیف کیسے رسالہ وفات مسیح ناصری تقریبا سو صفحات پر مشتمل ہے۔مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں نقد کے علاوہ بیوی کے تمام زیور چندہ میں دے دیا۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پیشادری امیر جماعت احمدیہ صوبہ سرحد آپ کی خدمات کے بہت معترف تھے۔گجرات میں نہ صرف آپ مختلف شعبہ جات کے سیکریڑی رہے بلکہ آپ نے نائب دو قائمقام امیر جماعت احمد یہ ضلع گجرات کی حیثیت سے بھی کام کیا۔(بقیہ حاشیہ مت (۹۲) نے رجب روایات نمبر ۱۰ صفحه ۷۹ تا امر