تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 643 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 643

۶۲۸ دونوں بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس نے اپنے لڑکے محمد اشرف کو جس کی عمر تقریبا پانچ سال کی تھی۔دو پوسٹ کارڈ ہا تھ میں دے کر ہمارے پاس بھیجا اور اُس نے آکر کہا کہ ابا جی ! اماں جی نے یہ دوکارڈ دیتے ہیں اور کہتی ہیں کہ ایک تمہارا ابا بیعت کے لیے لکھ دے اور ایک تمہارا چا۔ہم دونوں نے اسی وقت بیعت کے خط لکھ دیئے قبولیت بیعت کا خط حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے قلم کا لکھا ہوا ہمیں موصول ہوا جس میں مولوی صاحب نے بڑی خوشی کا اظہار کیا الفاظ یہ تھے کہ حضرت صاحب بیعت قبول کرتے ہیں اور میں بہت خوش ہوا ہوں ؟ مولوی کرم دین تھیں دالے مقدمہ کے سلسلہ میں حضرت صاحب جہلم تشریف لے گئے۔تو یکی اسی گاڑی میں یہاں سے سوار ہوا۔ہر سٹیشن پر بے شمار ہجوم ہوتا تھا۔جہلم میں بہت بھیڑ تھی تحصیلدار غلام حیدر کے سپر د انتظام تھا۔انہوں نے خوب انتظام کیا۔جب حضور کچری تشریف لے گئے۔تو عدالت کے سامنے میدان میں حضرت مسیح موعود کے لیے ایک کہ سی سمجھائی گئی اور ارد گرد ا حباب کا حلقہ مختا جس میں صاجزادہ عبداللطیف شہید کابل اور عجب خان تحصیلدار آن زیدہ بھی شامل تھے۔حضرت صاحب نے گفتگو کی ابتداء) اپنے فارسی شعر سے آسماں بارہ : نشاں الوقت میگو پر زمیں این رو شاہد از پیٹے تصدیق من ایستاده اند سے شروع کی۔فرمایا میرے لیے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی گواہی دی مگر یہ لوگ نہیں مانتے فرمایا مانیں گے اور ضرور مانیں گے بلکہ میرے مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی بھی کھود کر کھا جائیں گے اور کہیں گے کہ اس میں بھی برکت ہے مگر اس وقت کیا ہوگا۔جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پنتھر پڑیں صنم ترسے ایسے پیاز پر حضرت صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ صاحبزادہ صاحب اور عجب خاں صاحب زار زار رونے لگے۔مخلوق بہت تھی۔پھر اندر عدالت میں تشریف لے گئے۔مکان پر واپس جا کہ بیعت شروع ہوئی مخلوق اسقدر تھی کہ پگڑیاں باہم باندھ کر بیعت لی جاتی تھی ایک سرا حضرت صاحب کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور باقی بگڑی لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی تھی بیٹے (حاشیہ ص ۶۲ بیر)