تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 638
۶۲۳ دوسرے کو مبارک دینے لگے اور نکاح کی تیاریاں ہونے لگیں دوسرے ہی رہ نسبت مبارک میں خود حضرت مصلح موسعود۔۔۔۔۔۔نے آپا جان امتہ الرحمن کے حضرت ڈاکٹر احمد دین صاحب۔۔۔کے ساتھ نکاح کا اعلان فرمایا۔الحمد لله على ذالك - خلیفہ وقت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سارے خاندان کے افراد گل حسب مرائب آپ کو بے حد محبت اور تعلق تھا بزرگان سلسلہ خصوصاً علماء کی بڑی قدر کیا کرتے تھے۔حبیب بارہ سال بعد مشرقی افریقہ سے ۱۹۵۰ ء میں ربوہ آیا تو والد صا حب مرحوم کو لاہور سے ساتھ والدصاحب لا کر حضرت مصلح موعود۔۔۔۔۔۔کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔بڑی محبت اور بے تکلفی سے باتیں جو میں حضور رد یا فرمایا آپ کے کتنے بیٹے ہیں ؟ والد صاحب نے عرض کیا حضور بیٹے تو و ہیں۔ماشاء اللہ لیکن میرا اصل بیٹا یہی ہے یعنی عنایت اللہ یہ عاجزہ یہ صرف اس لیے کہا کہ سب میں سے صرف میں ہی وقف کر کے نراقین زندگی کی صف میں شامل ہوا تھا۔الحمد للہ علی ذالک اور مرحوم کو چونکہ خدمت دین کا بے حد شوق اور جنون تھا اس لیے وہ میرے ساتھ سب بیٹوں سے زیادہ محبت رکھتے تھے اور مجھے یقیناً ان کی دعاؤں کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔خدا وند کریم اُن کے درجات علی علیین میں بلند فرماتا رہے۔جن دنوں ۲۵ - ۱۹۴۴ء میں عاجز مصروف تبلیغ تھا زندگی وقف کر چکا تھا ( ۱۹۴۳ء میں) والد صاحب مرحوم نے میرے بعض اشعار کے جواب میں اور یہ جان کر بفضلہ تعالیٰ میں بھی اشاعت اسلام کی کچھ تو فیق پارہا ہوں بعض خطوط میں مجھے مندرجہ ذیل اشعار تخریہ فرمائے تھے ☑۔✓ یہی خدا محفوظ رکھے ھر بلا سے مانگا کرد و هر دم خدا سے جیتا کہ بیتا کہ بہیتا کہ مہیا کہ عنایت منزل مقصود کا تحفہ مہیا کر عنایت که عنایت کر عنایت که عنایت کہ الہی منزل مقصود کا تحفہ عنایت کر ۱۹۴۵ء میں یہ پیاری نظم مجھے لکھ کر بھیجی۔عنایت ہے اللہ کی تو میرے پیارے پڑے رہنا ہر دم اُسی کے دوارے نہاں ہے تو آنکھوں سے اسے میرے یوسف عیاں ہے تو دل میں منیا مثل تار سے زمانہ کی گردش سے گھبرا نہ جانا گناہ بخش دے گا خدا تیرے سارے