تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 639
۶۲۴ خدا کے سہارے وہ فضل خدا سے ده فضل خدا سے لگے گی کنارے م۔۴۔جو کشتی چلے گی خدا کے سہارے دعا ہے سلامت سلامت رہ ہو تم سلامت رہیں بہن بھائی تمہارے نے حضرت چو بدری اللہ بخش صاحب اپنی خود نوشت سودایات میں تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیں نیکی اور تقویمی کی ہمیشہ ہدایت فرمایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ موت کو ہمیشہ پیش نظر یہ کھا کر و۔تم لوگ بہت خوش قسمت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جہاد میں ہمارے ساتھ شامل کیا ہے ہم مضمون لکھتے ہیں تم چھاپتے ہو پھر مخلوق خدا کی بہتری کے لیے شائع ہوتا ہے یہی اس زمانہ کا جہاد ہے۔مطبع کو اپنا ایک نشان فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اللہ جل شانہ نے یہ سب سامان ہمارے لیے ہی پیدا کیا ہے۔حضور کے سلطان القلم" ہونے پر میں بھی ایک شاہد ہوں کیونکہ ہم چھاپتے چھاپتے تھک جاتے تھے۔اور حضور علیہ السلام کے مضا مین ہمیشہ ہی بیع رہے تھے اور کبھی ختم نہیں ہوتے تھے۔حالانکہ اور لوگوں کے مضامین خستم ہو جایا کرتے ہیں اور پریس والے مضامین کی انتظار میں رہتے ہیں اور پھر لطف یہ ہے کہ ہمارے پریس میں صرف حضور علیہ السلام کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے اور دیگر پر یسوں میں عام لوگ مضامین بھیجتے تھے حضور علیہ السلام سے میری آخری ملاقات۔جب حضور علیہ السلام اپنے آخر می سفر پہ لاہور جانے کے لیے تیار ہوئے تو جاتے وقت احمدیہ چوک میں حضور سے میں نے مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کی اور حضور کے ہمراہ لاہور جانے کی اجازت چاہتی کیونکہ ان دنوں حضور کی آخری کتاب چشمہ معرفت نہ یہ طبع تھی اس لیے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ " تم نے لاہور نہیں جانا تم اس کتاب کو جلای کانتم کرو حضور علیہ السلام کے اس ارشاد مبارک کا میرے دل پہ آج تک یہ اثر ہے کہ حالانکہ میرا بڑا بھائی پیغامی ہوگیا تھا۔مگرحضور علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق پیغامی ریعنی لاہوری) فتنہ کے اثر سے محفوظ رہا۔ہم نے قر یا اپنی ۱۹۰۸ ء کو کتاب " چشمہ معرفت مکمل کر کے حضور علیہ السلام کی خدمت سے غیر مطبوعہ تحریر چو ہدری عنایت اللہ صاحب احمدی ۲۵ نومبر ۱۹۸۴ ء