تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 49
۴۹ متا بندہ لاہور جو درحال بلڈنگ گیا۔رات جو دعامل میں گزاری صبح نمازہ بنجر باجماعت پڑھنے کے بعد بیٹھے تھے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب آگئے اور پوچھا کہ جماعت ہو گئی ہے ؟ بتانے پیکہ جات ہو چکی ہے انہوں نے خود اکیلے ہی نماز پڑھ لی اور وہیں بیٹھ گئے اس جگہ مختلف علاقہ جات سے آئے ہوئے دوسرے احمدی احباب بھی بیٹھے تھے۔مولوی عبد الوہاب صاحب کہنے لگے۔ر جیسے کہ درس دیا جاتا ہے) کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیاوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی۔جیسے " وے اُن کو عمر و دولت لیکن حضرت خلیفہ اول نے اپنی اولاد کے لئے دنیا کے لئے دعا نہیں فرمائی بلکہ خدا کے سپرد کر دیا۔اب دیکھیں کہ حضور کی اولا د دنیا کے پیچھے لگ گئی کہ پریشانیوں تکلیفوں میں مبتلا ہے۔کیوں کہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکون قلب حاصل نہیں کر سکتا را غلباً اس میں حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کا بھی نام لیا تھا)۔اسی قسم کی اور باتیں بھی انہوں نے کہی تھیں جو کہ مشکوک ہونے کی وجہ سے درج کرنے سے قاصر ہوں لیکن تمام گفتگو کا ر معصوم تھا وہ وہی تھا جو کہ خاکسار نے اوپر درج کر دیا مندرجہ بالا مفہوم کے متعلق میں اپنے پالنے والے خدا کو حاضر ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ وہ بالکل درست ہے اور اس سے ذرہ بھر شک نہیں الفاظ کم و زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن مفہوم ہی نکلتا ہے جو عاجز نے اور تخریہ کہ دیا ہے لائے سید نا حضرت مصلح موعود نے اس خط پر مندرجہ ذیل پیغام احباب جماعت کے نام دیا۔" برادران - السلام علیکم ورحمته الله وبركاته حضرت خلیفہ اول کی ناخلف اولماداب حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بڑائی دینے کے لئے سازش پکڑ رہی ہے۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب نواب شاہ سندھ جو میاں عبدالسلام صاحب مرحوم کے ساتھ زمین کے ٹھیکہ میں شریک رہے ہیں لکھتے ہیں کہ ه روزنامه الفضل ربوه و ر ا گست ۱۹۵۶ء صفحه ۴