تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 50
200ء میں جو قافلہ قادیان گیا میں بھی اس میں شامل ہونے کے لئے لا ہو کہ آیا وہاں صبح کی نماز کے بعد میں میں میاں عبدالوہاب صاحب شریک نہیں ہوئے وہ مختلف جگہوں سے آئے ہوئے لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے اس طرح بولے جیسے درس دیتے ہیں اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا ملنے کی دعا کی تھی میں سے سکون قلب حاصل نہیں ہوتا لیکن حضرت خلیفہ اول نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کیا لعنت اللہ علی الکاذبین) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک الہامی دعا ہے جو وفات کے قریب ہوئی جس میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش باسله یعنی اے خدا میں اپنی ساری پونچی تیرے سپرد کرتا ہوں تو آگے اس میں کمی بیشی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے متعلق تو کہیں ثابت نہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کیا تھا ان کی وصیت میں تو یہ لکھا ہے کہ میری اولاد کی تعلیم کا انتظام جماعت کرے اور میری لائبریری بیچ کران کا خروج پورا کیا جائے اس کے مقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد پر ایک پلیہ خرچ کرنے کی جماعت کو نصیحت نہیں کی اور عملاً بھی حضرت خلیفہ اول کے خاندان پر جماعت کو اس سے بہت زیادہ شریح کرنا پڑا ہے جتنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اول او پر کرنا پڑا علاوہ ازیں میں ایک لاکھ چالیس ہزارہ کی زمین صدر انجمن حمدیہ کو اس وقت تک دے چکا ہوں اور اس کے علاوہ نہیں تیس ہزار پچھلے سالوں میں چندہ کے طور پر دیا ہے اور ایک لاکھ نہیں ہزارہ تحریک جدید میں دے چکا ہوں۔ان رقیمتوں کو ملا لیا جائے تو جماعت نے جو رسم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کے خاندان پہ خرچ کی ہے یہ رقم اس سے چالیس پچاس گئے زیادہ ہے اور پھر حضرت خلیفہ اول کی اولاد جب کہ دنیوی کاموں میں مشغول تھی اس وقت میں قرآن کریم کی تفسیریں لکھ لکھ جماعت کو دے رہا تھا۔اور له منصب خلافت طبع اول منه برکات خلافت م۲۲ - تذکره طبع چهارم را