تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 48 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 48

MA تھا اور ان خطوں پر لکھا ہوتا تھا کہ ایک معصوم عورت کا خط لیکن ہر خط گمنام ہوتا تھا اوراد پر لکھا ہوتا تھا نقل مطابق اصل کہ میں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے که گنام شخص سے مباہلہ کون کر سکتا ہے یہ فقرہ صرف اس لئے بڑھایا جانا تھا کہ احمق لوگ اس سے متاثرہ ہو جائیں اس بات کو نبی پر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی وہ کون سی عورت ہے جو ۷ سالہ پہلے مباہلہ کے کٹنگ کو محفوظ رکھے گی۔صاف ظاہر ہے کہ وہ بدبخت جو مباہلہ والوں کی پارٹی میں شامل تھے یا تو انہوں نے یہ کٹنگ چھپا رکھے تھے کہ کسی وقت ان کو شائع کریں گے یا آج پھر مباہلہ والوں کے دوست مباہلہ والوں سے ان کے پرانے اخباروں کے کٹنگ سے کہ جماعت میں پھیلا ر ہے ہیں اس سے جماعت سمجھ سکتی ہے کہ موجودہ فتنہ کے پیچھے وہی پرانے سانپ ہیں۔جنہوں نے ایک وقت احمدیت پر حملہ کیا تھا۔ہمارے ایک دوست نے عراق سے لکھا تھا کہ مباہلہ کے پرچے پیغام بلڈنگ سے اشاعت کے لیے عراق بھیجے جاتے ہیں پس یہ ایک مزید ثبوت پیغامیوں کی شراکت کا ہے۔ہمارے ایک دوست جو اس وقت آبادان کمپنی میں نوکر تھے اور بھیرہ کے رہنے والے ہیں۔ان کا ایک لڑکا ایسٹ پاکستان میں نوکر ہوتا تھا۔اُن سے یہ اطلاع ہم کو لی تھی۔ان کے نام میں حمل کا لفظ بھی آتا ہے۔اس وقت مجھے یہ نام بھول گی۔اگر ان کویہ واقعہ یاد ہو تو ایک دفعہ مجھے پھر لکھیں جب ایک پیغامی لیڈر نے مجھے یہ کہا تھا کہ ہم نے کوئی ایسا پروپیگنڈا عراق میں نہیں کیا۔تو ان کے ایک رشتہ دار نے یہ کہا تھا کہ یہ جھوٹ ہے میرے پاس اس پیغامی لیڈر نے ان الزامات کی تصدیق لکھ کر بھیجی ہے۔یہ صاحب کسی وقت کراچی میں رہتے تھے۔" مرند امحمود احمد ۲۹/۷/۵۶ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب نے نواب شاہ سندھ سے ۳۰ جولائی تم کو حسب ہم بیل مکتوب حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ارسال کیا۔سیدی عرض ہے کہ عاجز دسمبر ۱۹۵۷ء کے قافلہ کے ساتھ جو کہ جلسہ سالانہ قادیان جانیوال لے یہ احمد گل صاحب پراچہ تھے : سہ روزنامہ الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۵۶ء صلہ سے آپ ۲۸ ستمبر ۱۹۸۸ء کو شہید کر دیئے گئے رالفضل حکیم اکتوبر ۱۹۸۹ ء صدا