تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 611
۵۹۶ 319-1 اولادت ١٨٨ء بیعت ۶۱۹۰۳ وفات ۲۷ رجون ۱۹۵۷ء) حضرت مولوی غلام رسول صاحب قبول احمدیت اور حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک کے چشمید واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :- یکی نے ۱۹۰۱ ء تا ۱۹۰۲ء میں بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر کی تھی۔اس وقت حضور کی خدمت ہمیں ایک ہفتہ رہا اور ہم آپ کو جب آپ مسجد میں نماز کے بعد عموماً مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتے تھے دباتے تھے یعنی مٹھیاں بھر تے تھے اور آپ ہم کو منع نہیں کرتے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا کہ وہ شبہات جو مولوی ڈالتے تھے آپ کا چہرہ دیکھنے سے دور ہو جاتے تھے۔چنانچہ میں نے سنا ہوا تھا کہ مہدی معہود کا چہرہ ستارے کی طرح چمکتا ہوگا اور میں نے ایا ہی پایا اور میرے سارے اعتراضات آپ کا چہرہ دیکھتے ہی حل ہو گئے۔اور جب آپ پر کرم دین نے دعوی کیا تھا اور مجسٹریٹ چندو لال کی عدالت میں دعوی تھا اور بہت شور تھا کہ حضرت سیح موعود ضرور جیل میں جائیں گے اور حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ لوگ یہ افواہ پھیلا رہے ہیں میں جیل میں جاؤں گا ہمارا خدا کہنا ہے تم کو ایسی فتح دونگا جیسے صحابہ کو جنگ بدر میں دی تھی اور وہ الفاظ آپ کے اب تک کانوں میں گونجتے ہیں اور ایک دفعہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صبح کو سیر کے واسطے پہاڑ کی جانب نکلے اور آپ دُور نہ جا سکے کیونکہ دوستوں کا ہجوم تھا اور ریتی چھلہ دیو بڑ کے مغرب کی طرف آپ ٹھہر گئے اور آپ کے گرد دوستوں نے گروہ (دائرہ) باندھ لیا اور مصافحہ کرنا شروع کیا اور میں نے جب مصافحہ کیا تو میں نے ایک روپیہ ایسے طور پر دیا کہ کسی کو معلوم نہ ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری طرف ایسی شفقت بھری نظر سے دیکھا کہ جب مجھے وقت اور وہ نظر آپ کی یاد پڑتی ہے تو مجھے اب بھی سر در آجاتا ہے۔ایک دفعہ جبکہ نسیم دعوت چھپ رہی تھی۔آپ نے اس کتاب کی تعریف کی اور میری طبیعت للچائی کہ کتاب محمد کو بھی ملے اندر قیمت میرے پاس نہیں تھی جب آپ جانے لگے تو میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور مجھے بھی ایک تة الفصل ہم پر جولائی ، 190 ء ما : تے "رجبر روایات نمبر ۳ ما کے اشاعت ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء -