تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 610
۵۹۵ حضرت مولوی علی احمد صاحب ایم اسے بھاگلپوری نے عمر بھر اسلام کی خدمت کا فرمن ادا کیا۔آپ خاموش طبع اور ہر قسم کے نام دینمود سے بہزار تھے۔بھوس اور موثر خدمت کے قائل تھے۔نیک نمونہ کو بہترین تبلیغ جانتے تھے۔طبیعت میں بنی نوع انسان کی ہمدردی اور بھلائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔مجھے جامعتہ المبشرین میں ان کے ساتھ چار سال تک کام کرینی کا موقعہ کا ہے۔ایسے نیک بزرگ اور ہمہ تن خیر انسان کی جدائی بہت شاق ہوتی ہے۔مگر قدرت کا نظام اسی طرح ہے کہ ایک عمر کے بعد ہر انسان کو اس جہان خانی سے آخرت کی طرت کو پچ کرنا ضروری ہے۔پروفیسر صاحب مرحوم پڑھا ہے کے باد جو باقاعدگی اور نظام کی پابندی میں ایک نمونہ تھے۔انہیں فطر می شوق تھا کہ دور دراز سے آنے والے اور سلسلہ کی تبلیغ کے لیے جانے والے طلبہ کی علمی ترقی میں میرا بھی حصہ ہو اور اسی ذریعہ - سے میں نواب میں شریک رہوں۔اس لیے بیماری کے باوجود بھی وہ محنت سے پڑھاتے رہے جزاک اللہ خیرا و احسن مثوالا في الجنة سن رسیدگی کے با وسجو د حتی المقد در باجماعت مسجد میں ادا فرماتے بہت دعا گو بزرگ تھے۔آخری سالوں میں حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب سے بہت ہی لگاؤ تھا اور بیت المبارک میں بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قریب ہی صحت اوّل میں شریک نماز ہوتے تھے۔اب دونوں بند رگوں کی جگہ خالی ہو گئی اور دونوں اپنے مولی کے پاس پہنچ چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان سے خاص فضل و احسان کا سلوک کرے آمین یا رب العالمین" له اولاد - - احسن صاحب روفات ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۱۸ء مدفون بہشتی مقبره (قادیان) ۲ - حسین صاحب (پندرہ دن کی عمر میں وفات پائی ) ۲۔میاں عبدالرحیم احمد صاحب ( داماد سیدنا حضرت المصلح الموعود) ۱۱- حضرت مولوی غلام رسول صاحب چانگریاں ضلع سیالکوٹ الفضل ۱۲ جولائی ١٩٥٧ ء م