تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 612
۵۹۷ کتاب نسیم دعوت دی جائے اور آپ نے بہت شفقت سے خلیفہ رجب الدین صاحب سے رجو دور کے رہنے والے تھے) فرمایا کہ اس لڑکے کو کتاب ولا دیں اور صبح ہوتے ہی مجھے کتاب مل گئی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی زندگی عملاً خدمت دین کے لیے وقف تھی آپ کا محبوب شغل قرآن مجید پڑھنا پڑھانا اور وعظ و خطبات دینا تھا۔مرحوم کا طریق متھا کہ ہر روز بلا نا نہ نماز فجر کے بعد قرآن مجید کے ایک رکوع کا دلنشیں رنگ میں درس دیتے پھر گھر تشریف لے آئے جہاں چھوٹی بڑی لڑکیوں کا جمگھٹا ہوتا۔سب کو ناظرہ یا ترجمہ قرآن مجید کا سبق دے کر تین فرلانگ کے فاصلہ پر واقع گاؤں مانگا چلے جاتے اور مردوں کو بھی نماز ظہر تک قرآن مجید کا ترجمہ سکھلاتے۔نماز ظہر کے بعد سلسلہ کے مالی کاموں میں سیکرٹری مال کا ہاتھ بٹاتے اور عصر کے وقت واپس جانگیاں پہنچ کر نماز عصر پڑھاتے اور جلسہ سالانہ کے سوا آپ کا ہمیشہ یہی معمول رہا۔صداقت حضرت مسیح موعود اور وفات مسیح وغیرہ مسائل ایسے موثر طریق پر پیش فرماتے کہ انکار کی گنجائش نہ رہتی۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔تبلیغ کے لیے باہر دیہات میں نکل کھڑے ہوئے اور خصوصاً مرکزی ایام التبلیغ میں تو آپ سارا دن جہاد تبلیغ میں صرف کر دیتے۔آپ کے ذریعہ کئی نفوس نے سحق کی شناخت کی اور کئی ایک نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ کی طبیعت اگر چہ مناظرانہ نہیں تھی تاہم آپ نے بعض بڑے بڑے مولویوں سے مناظرے کیسے۔آپ کا قرآن مجید سے استدلالی غیر احمدی علماء کو ہمیشہ مرعوب کر دیتا تھا۔اگر چہ آپ کے پاس احادیث و فقہ کی کتابیں موجود تھیں مگر آپ کا استدلال ہر مسئلہ میں کتاب اللہ سے ہوتا تھا۔قرآنی آیات تو گویا آپ کے دل و دماغ اور زبان پر نقش تھیں۔آپ کے اخلاق کریمانہ اپنوں اور پرالیوں کو مسلم تھے۔۱۹۴۷ء میں آپ کے گھر ایک دیسی ساخت کا پستول بطور امانت رکھا تھا۔کسی نے پولیس میں مخبری کر دی۔آپ نے پستول لا کہ فوراً پولیس کے حوالہ کر دیا اور چالان رجسٹر ڈ ہو گیا عدالت میں پیشی کے وقت دوستوں کو تشویش ہوئی کہ نیند کا خطرہ ہے۔مگر آپ نے فرمایا خواہ کچھ ہو جھوٹ میں بولا جانتا نہیں میں تو سچ ہی بولوں گا معززین دشرفا کا ایک وفد به خسر خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر مرحوم روایات صحابہ " جلد من وما