تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 609 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 609

کیا ہے ۵۹۴ اولاد - ۱ محترمہ رحمت بی بی صاحبہ - ۲ - مولوی فضل الہی صاحب مولوی فاضل (شہید) محترم نور الہی صاحب - ۴- محترمہ امتہ اللہ بیگم صاحبه۔مولوی کریم الہی صاحب - ۶ - مولوی احسان اپنی صاحب (مربی سلسلہ) ۱۰۔حضرت پیر وغیر مسلی احمد صاحب ایم اے بھاگلپوری (ولادت ۱۸۷۷ء زبانی بیعت ۱۸۹۲ تو تحریری بیعت ۹۰۶ از وفات ۲۲ جون ۱۹۵۷ء) آپ نے سولہ سال کی عمر میں جبکہ آپ میٹرک کا امتحان دے رہے تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر ایمان لانے کا بھری مجلس میں اعلان فرمایا جس پر آپ کو شدید مصائب سے دوچار ہونا پڑا لیکن آپ نے ثبات قدم کا نہایت اعلیٰ قابل رشک نمونہ پیش فرمایا۔آپ حکومت کے معزز عہدوں اور مناصب پر فائز رہے اور نہایت پاک مظہر زندگی بسر کی۔آپ احمدیت کی ایک چلتی پھرتی تصویر اور منکسر المزاجی اور فروتنی کا مجسمہ تھے۔، را پریل ۱۹۰۸ء کو قادیان دارالامان میں شکاگو کے ایک سیاح مسٹر ٹرنر اپنی لینڈ ی میں بارڈون اور ایک سکارج مین مسٹر با نشر کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کی۔پروفیسر صاحب اُن دنوں ڈپٹی مجسٹریٹ تھے اور اس موقعہ پر قادیان میں موجود تھے۔آپ نے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے تم جہانی کے فرائض انجام دیئے۔کے آپ کو کئی سال تک جامعتہ المبشرين ربوہ میں تعلیمی خدمات بجالانے کا موقعہ بھی مانا آپ کے متعدد شاگرد اس وقت تبلیغی حیاد میں سرگرم عمل ہیں۔خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضرت پر وفیسر صاحب کی بعض قابل تقلید صفات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحر یہ فرمایا کہ : - له الفضل ۱۲ جولائی ، ١٩٥ ء م ت - الفصل ۲۳ جون ۱۹۵۰د مرد کہ ریکارڈ بہشتی مقبره پوه : ٣ الفضل ۲۵ جون ۱۹۵۷ء صارم ه الحلم دار اپریل ۱۹۰۸ د ملت ۲ ، بدر و ر ا پریل ۱۹۰۸ د سراب ۱۵ تاریخ احمدیت جلد سوم طبع دوم ما ۵۳