تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 608 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 608

۵۹۳ پھیر دیچی میں سب سے پہلے احمدی آپ ہی تھے۔بیعت کے بعد آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میں اکیلا ہوں حضور علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ مومن کبھی اکیلا نہیں رہتا۔آپ یہ جواب سن کر نہایت اطمینان قلب سے واپس آگئے۔شروع میں برادری نے سخت مخالفت کی مگر آپ برابر تبلیغ میں منہمک رہے اور گاؤں والوں کو کہتے رہے کہ خدا اپنے مومن بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا کرتا۔مجھے بھی وہ انشاء اللہ اکیلا نہیں چھوڑے گا۔چنانچہ ۱۹۰۳ ء میں ان کی برادری کے چار گھرانے اور دوسرے متعدد اشخاص داخل احمدیت ہو گئے۔مگر مخالفت پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کرگئی۔کئی دفعہ مخالفین سلسلہ نے مسجد سے باہر نکال پھینکنے کی کوشش کی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مخالفت کی شدت کا ذکر کیا نیز فرمایا کہ لوگ مسجد میں نماز بھی ادا نہیں کرنے دیتے حضرت اقدس نے دعا کی اور فرمایا فی الحال اپنی زمین میں کوئی چھوٹی سی مسجد بنا لو خواہ متھڑا سا ہی ہو۔انشاء اللہ جلد ہی یہ مسجد بھی آپ لوگوں کو مل جائے گی۔اللہ تعالٰی نے آپ کی کوششوں کو قبول فرمایا اور جلد ہی پھیر و چیچی کا گاؤں احمدیت کی آغوش میں آگیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے مبارک کلمات پورے ہو گئے اور صداقت احمدیت کا نشان بن گئے۔پھیرو چیچی کادیان سے تقریباً نویل کے فاصلہ پر تھا لیکن آپ اکثر اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابرکت مجلس سے فیضیاب ہونے کے لیے قادیان پہنچ جاتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود اور حضور کے سب خاندان سے والہانہ عقیدت تھی۔تبلیغ کا خاص شوق تھا اور اس ذریعہ کو ادا کر نے میں خاص لذت محسوس کرتے تھے۔موصی تھے اور چندہ دینے اور ہر دینی تحریک میں آپ کا قدم آگے ہی رہتا تھا۔آپ نے مقامی جماعت میں نماز با جماعت کی ایک تڑپ اور لگن پیدا کر دی تھی۔تہجد گزار تھے۔دعاؤں پر پختہ یقین تھا اور قبولیت دعا کے اپنے بہت سے واقعات سنا کر ایمانوں کو تازہ کر دیتے تھے۔حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بجا آوری میں مقدور بھر کوشاں رہتے تھے۔ہر ایک سے محبت اور خوش خلقی سے ملتے تھے۔۱۹۴۷ ء میں ناصر آباد اسٹیٹ سندھ میں تشریف لے آئے اور یہیں انتقال