تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 606
091 چنانچہ جیسا کہ اوپر عمن کیا گیا ہے آپ خدا کے فضل سے صحت یاب ہو کہ دو تین سال تک روزمرہ کے کام کاج کرتے رہے۔چوہدری صاحب مرحوم کے صاحبزادے چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ بیان کرتے ہیں کہ چوہدری احمد دین صاحب مرحوم قبول احمدیت سے قبل حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ سے خاص عقیدت رکھتے تھے اور زمانہ طالب علمی میں ان کے مزار پر جایا کرتے تھے انہیں ایام میں ایک وفعہ خواب میں دیکھا کہ حضرت داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ کی قبر کھلی ہوئی ہے اور اس میں سے ایک نہایت پر نور اور بابرکت ہستی نمودار ہوئی جو سر تا پا پھولوں سے لدی ہوئی ہے اور خواب ہی میں بنایا گیا کہ یہ سید نا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کے نتیجہ میں قادیان حاضر ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر ٩٠٥ار میں بیعت کر لی۔بیعت کرنے پر اپنے گاؤں شادی وال تشریف لائے اور اپنے استاد مولوی نجم الدین صاحب سے اپنی بیعت کا ذکر کیا۔چند دن بعد حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی۔۔۔۔۔۔بھی شادیوال تشریف ما۔لائے۔اگر چہ حضرت مولوی نجم الدین صاحب اس سے قبل احمدیت قبول کر چکے تھے مگر اس وقت تک اظہار نہیں فرمایا تھا۔چودھری صاحب مرحوم اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیہ آبادی کے کہنے پر حضرت مولوی نجم الدین صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے قبول احمدیت کا اعلان کر دیا جس کے نتیجہ میں قریبا نصف گاؤں احمدیت کی آغوش میں آگیا۔چو بلندی احمد دین صاحب کی وفات جماعت احمدیہ گجرات کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔حضرت ملک برکت علی صاحب حضرت مولوی امیر الدین صاحب ، حضرت مرزا امیر الدین صاحب ٹھیکیدار حضرت شیخ الہی بخش در تیم بخش صاحبان حضرت ماسٹر ہدایت اور صاحب حضرت با با امام الدین صاحب حضرت میاں محمد الدین صاحب در ت ساز حضرت میاں رحیم بخش مامالا کنڈی حضرت مرنه اوزیر بخش صاب حضرت ڈاکٹر عمر الدین صاحب حضرت ڈاکٹر علم الدین صاحب حضرت میاں عبد المجید صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب اور جماعت گجرات کے روح رواں تھے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے بطریق احسن سر انجام دیتے ہوئے یکے بعد دیگرے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَة کے مصداق بن چکے تھے اور اب حضرت چوہدری احمد الدین صاحب بھی ان کے ساتھ جا ملے ہیں۔