تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 605
۵۹۰ تھے۔۱۹۵۱ء میں جب موٹر کے حادثہ میں ان کی ٹانگ کی بڑی بڑی شکستہ ہوگئی توعام طور پر ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ اس بڑی کا جڑنا اور چوہدری صاحب کا جانیبر ہو نا مشکل ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہو گئے اور آسان چلنے پھرنے گئے اور اگرجی وکالت کا کام شروع نہیں کیا مگر عام روز مرہ کے کام کاج اور روزانہ میر کرنے باہر جاتے۔حتی کہ مسجد میں بھی جمعہ اور عیدین کی نماز دوں میں تشریف لاتے اور کئی مرتبہ خاکسار کی خواہش پر خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے۔ابتدائی علالت کے ایام میں ایک شب ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔سردی کا موسم تھا رات کو چوہڑی صاحب سوئے ہوئے تھے آپ کے قریب ہی اس کمرہ میں میاں محمد ابراہیم صاحب احمدی رجو چودھری احب کے صاجزادہ برادرم چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے منشی ہیں اور چودھری صاحب کی خدمت پر مامور تھے) دوسری چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔خود چو ہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ساتھ والے کمرے میں اپنے مقدمات کی تیاری میں مشغول تھے کہ چوہدری بشیر احمد صاحب کو آواز دے کر بلایا اور پوچھا کہ ابھی ابھی میرے کمرے میں کون بزرگ تشریف لائے تھے ہا چو ہدری بشیر احمد صاحب نے جواب دیا کہ کمرے کے تمام بیرونی دروازے اندر سے بند ہیں یہاں کوئی شخص باہر سے نہ اندر آسکتا ہے اور نہ کوئی آیا ہے۔اس پر منشی محمد ابراہیم صاحب مذکور نے بتایا کہ میں نے بھی ایک بزرگ چوہدری صاحب مرحوم کے سرہانے کھڑے دیکھتے ہیں۔چوہدری صاحب مرحوم نے بتایا کہ ایک بلند قامت بزرگ نهایت براق سفید لباس میں ملبوس ان کے کمرے کے بیرونی دروازے سے داخل ہوئے اور ان کی چار پان کے چاروں طرف گھوم کر ان کے مربا نے کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں آپ کی تیمار داری کرنے کے لیے آیا ہوں۔یہ عجیب و غریب کشف جس میں منشی محمد ابراہیم صاحب بھی شامل کیے گئے چوہدری صاحب کی صحت یابی پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح آپ نے ایک اور رڈیا دیکھا جس میں آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور دیکھا کہ حضور چوہدری صاحب مرحوم کے وطن مالوف شادیوال ضلع گجرات میں تشریف لائے ہیں اور تپاک اور محبت سے بچو ہدری صاحب۔کے ساتھ معانقہ فرمایا ہے۔اس روڈ یا کی بھی چو ہلدی صاحب نے یہی تعبیر کی کہ آپ اس علالت سے صحت یاب ہو جائیں گے |