تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 596 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 596

۵۸۱ بہر حال احمدیت کا ایک درخشندہ ستارہ اس جہان میں غروب اور اگلے جہان میں طلوع ہوا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی وفات کے اس قدر جلد بعد ڈاکٹر صاحب کی وفات بھی ایک بھاری قومی صدمہ ہے حضرت مفتی صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص مقرب رفیق تھے۔اور ان کا درجہ بہت بلند تھا۔مگر ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کا وجود بھی اس وقت جماعت میں ایک بڑی نعمت تھا۔خاص صدمہ کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پرانے رفقاء) جلد از جلد گزرتے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا حضرت خلیفہ المین الثانی ایدہ اللہ نے خطبہ میں جماعت کو تحریک فرمائی تھی اور میں نے بھی حضور کی اتباع میں الفضل میں ایک مضمون لکھا منھا) که نوجوان احمدی نوافل اور دعاؤں اور ذکر الہی میں شعف پیدا کر کے جماعت کے روحانی مقام کو بلند رکھنے کی طرف توجہ دیں نامرنے والے بزرگوں کی طرح خدا تعالیٰ انہیں بھی اپنے فضل درحمت سے رڈیا صالحہ اور کشف اور الہام سے نوازے اور جماعت میں خدا تعالی کے زندہ اور تازہ بتازہ نشانات کا سلسلہ قائم رہے گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اور آپ کے خلفاء کرام کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نشانات اب بھی زندہ ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آیات کو تو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے۔لیکن اگر جماعت کے افراد میں بھی ان روحانی چھینٹوں کا سلسلہ جاری رہے تو یہ گویا ہونے پر سہاگہ ہے اور مجھے خوشی ہے کہ کچھ عرصہ سے جماعت کا نوجوان طبقہ عبادت اور ذکر الہی کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے اور ان میں سے بعض کشف و الہام سے بھی مشرف ہیں گھر یں ان سے کہتا ہوں کہ کا نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز جماعت احمدیہ ایک خدائی جماعت ہے۔اور گو اسے اسلام اور احمدیت کی خدمت اور جماعتی ترقی کے لیے ظاہری اسباب کی طرف بھی ہمیشہ خاص توجہ دیتے رہنا چاہیئے لیکن ان کی ترقی کا اصل رازہ روحانی وسائل میں ہے اور جماعت کے نوجوانوں کو ان رسائل کی طرف خاص توجہ دینی چاہیئے۔اور روحانی وسائل میں زیادہ توصبہ یہ وسائل ہیں۔ا۔نمازوں کو دل لگا کیا اور سنوار کر پڑھنا اور یہ تصور قائم کرنا کہ اس وقت خدا کے سامنے ہوں اور خدا میرے سامنے ہے۔- نماز تہجد اور دیگر نوافل کی پا بندی - نمانہ نجد تودہ نعمت ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ