تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 595 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 595

حضرت ڈاکٹر صاحب کو حضرت مسیح موعود اور حضرت مصلح موعود سے بے انتہاء عشق تھا۔دعاؤں اور ذکر اپنی میں شغف کے اعتبار سے آپ جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ غالبا ۱۹۲۰ء میں ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔بقیہ عمر آپ نے قادیان اور پھر ربوہ میں سیر کی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا : حضرت ڈاکٹر صاحب موصون۔۔۔۔۔۔اپنی دینداری اور تقویٰ اور عبادت اور دعاؤں میں شعف کیوجہ سے وہ اس وقت احمدی بندگوں میں صف اول میں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اور حضرت خلیفہ المسیح ا الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو للہی عشق تھا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کے اخلاص اور عشق کا یہ عالم تھا کہ اکثر سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں رحضت لے کر قادیان گیا اور اس ارادے سے گیا کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السّلام مجھے شناخت نہیں کرلیں گے ادر مجھے نام لے کر نہیں جائیں گے میں واپس نہیں جاؤں گا خواہ نوکری رہے یا نہ رہے۔چنانچہ میں رحمت پر رحضرت لیتا گیا اور پورا ایک سال قادیان میں ٹھہرا۔آخر ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے دیکھ کہ کسی کام کے تعلق میں فرمایا میاں غلام غوث آپ یہ کام کر دیں۔میں نے خدا کا شکر کرتے ہوئے وہ کام کیا۔اور دوسرے دن حضرت سے رخصت لے کر نوکری پر واپس چلا گیا حق یہ ہے ان بزرگان قدیم کی شان ہی نرالی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبہ دست روحانی طاقت اور غیر معمولی مقناطیسی کشش کا ایک بین ثبوت ہے عبادت کا اتنا شوق تھا کہ اُن کا دل گو ہر وقت مسجد میں شکار ہوتا تھا۔آخری ایام میں جب کہ ڈاکٹروں نے انہیں چلنے پھرنے سے منع کر دیا تھا۔وہ پھر بھی داؤ لگا کر مسجد میں پہنچ جاتے تھے۔یعنی کہ مجھے انہیں اصرار کے ساتھ روکنا پڑا۔کہ ان پر بنفسِكَ عَلَيْكَ حق کا حکم بھی واجب ہے۔نہایت تضرع کے ساتھ دعائیں کرتا اور ذکر الہی میں مشغول رہتا ان کے دل کی غذا تھی۔یہ انہی اعمال حسنہ کا نمرہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب خدا کے فضل سے صاحب کشف والہام تھے اور خدا کا بھی یہ فضل منھا کہ انہیں اکثر اپنی دعاؤں کا جلد جواب مل جاتا تھا۔گو بعض اوقات امید کے پہلو کے غلبہ کی وجہ سے وہ تعبیر میں غلطی کر جاتے تھے۔له الفضل ۲۱ فروری ۱۹۵۷ ء ما