تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 46
۴۶ عبدالمنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔راگر عبد المنان بھی اس سازش میں شریک ہے تو تم یا درکھو کہ عبد المنان اور اس کی اولا د قیامت تک خلافت کو حاصل نہیں کرے گی خواہ کروڑوں غلام رسول ان کے لئے کوششیں کرتے ہوئے اور ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے مر جائیں اور اپنے پیر گھسا دیں اور اپنے ناک رگڑ دیں) پھر غلام رسول نے کہا کہ وہ دو سال کے بعد اتنی طاقت پکڑ جائے گا کہ ربوہ آکر ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر ربوہ سے نکال دے گا۔دو سال کے بعد کی بات تو خدا ہی جانتا ہے۔یہی بڑ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے رسول اللہ کے خلات ماری تھی اور جب اس کا ہی بیٹا اس کے سامنے تلوار ہے کہ کھڑا ہو گیا۔تو اس نے کہا کہ میں مدینہ کا سب سے ذلیل انسان ہوں اور محمد رسول اللہ طرینہ کے سب سے معز نہ انسان ہیں اس کا دعوی کرنا تو کذاب ہونے کی علامت ہے وہ اب ریوہ اگر دکھا دے بلکہ اپنے گاؤں جا کہ دکھا دے۔مگر ایسی باتیں تو حیا دار لوگوں سے کہی جاتی ہیں۔بلے جیالوگوں پر ایسی باتوں کا کیا اثر ہوتا ہے۔وہ پھر یہی کہ دے گا کہ یہ طاقت تو مجھے دو سال کے بعد حاصل ہوگی۔جیسا کہ مسیلمہ نے کہا تھا کہ اگر محمد رسول اللہ نے مجھے اپنے بعد وارث نہ بنا یا تو میری فوج حملہ کر کے مدینہ کو تباہ کر دے گی۔اب وہ مسیلمہ خبیث کہاں ہے کہ ہم اس سے پوچھیں اور یا دو سال کے بعد غلام رسول بے دین کہاں ہو گا جو ہم اس سے پوچھیں گے) چوھدری بشارت احمد صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد حیات تاثیر نے جیدا اپنے آپ کو مرزا کہتا ہے یہ بھی کہا کہ اگر حمید ڈاڈھے سے خطوط کا جواب چاہتے ہو تو اس کو اس قسم کے خطوط لکھا کرو کہ میاں ناصر محمد کو مارنے اور میاں بشیر احمد کے متعلق جو سکیم تھی وہ کہاں تک کامیاب ہے۔اس پر وہ فوراً تڑپ کر جواب دے گا (دیکھئے ان جیلوں کو جو ایک طرف تو اپنے خیال میں اپنی طاقت کے بڑھانے کے لئے میاں بشیر احمد کو خلافت کا لالچ دے رہے ہیں۔دوسری طرف ان کے قتل کر نے کے منصوبے بھی کر ر ہے ہیں۔کیا ایسے لوگ ایماندار یا انسان کہلا سکتے ہیں ؟ یہ خبیث اور ان کے ساتھی منافقوں کی طرح تھا میں کرتے رہیں گے۔لیکن سوائے ناکامی اور نامرادی کے ان کو کچھ نصیب نہیں ہوگا یہ آسمان پر خدا تعالے کی تلوار کھیچ چکی ہے۔اب ان لوگوں سے دوستی کا اظہار کرنے والے لوگ خواہ کسی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں اپنے آپ کو سچا کر دیکھیں۔خدا تعالے