تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 45
کی بعیت کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔حضرت مصلح موعود کی طرف سے الفضل کے اسی پر چہ ہیں۔یہ نئی شہادت بھی تھی اور حضور کا مندرجہ ذیل پیغام بھی کہ : ناصر احمد کے خلیفہ ہونے کا کوئی سوال نہیں خلیفے خدا بنایا کرتا ہے جب اس نے مجھے خلیفہ بنایا تھا تو جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں کی گردنیں پکڑوا کہ میری بیعت کروادی تھی جن میں ایک میرے نانا۔دو میرے ماموں ایک میری والدہ ایک میری نانی ایک میری تائی اور ایک میرے بڑے بھائی بھی شامل تھے۔اگر خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ ناصر احمد خلیفہ ہو تو ایک میاں بشیر کیا ہزار میاں بشیر کو بھی اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔اور غلام رسول جیسے ہزاروں آدمیوں کے سروں پر جوتیاں مار کر خدا ان سے بیعت کروائی گا لیکن ایک خلیفہ کی زندگی میں کسی دوسرے خلیفہ کا خواہ وہ پسندیدہ ہو یا ناپسندید و نام لینا خلاف اسلام یا بے شرمی ہے صرف خلیفہ ہی اپنی زندگی میں دوسرے خلیفہ کو خلافت کے لیے نامزد کر سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اول نے نشہ میں مجھے نامزد کیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ بیماری سے بچ گئے اور خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے فیصلہ سے مجھے خلیفہ بنوایا اگر خدانخواستہ اس وقت خلیفہ اول فوت ہو جاتے تو ان کی اولاد بڑھارتی کہ یہ خلافت ہمارے باپ کی دی ہوئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لعنت سے بچا لیا اور سورۃ نور کے حکم کے مطابق مجھے خود خلیفہ چنا اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ میں خدا تعالی کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق کہ میرے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق جائے گا میں ایک دفعہ نہیں داد دفعہ اپنی خلافت کے زمانہ میں دمشق گیا ہوں اور اب میں دلیری سے کہہ سکتا ہوں کہ میں کسی انسان کی دی ہوئی خلافت پر خواہ وہ کتنا بڑا انسان کیوں نہ ہو لعنت بھیجتا ہوں یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی تردید کرنی ہو گی جنہوں نے کہا کہ مسیح دمشق جائے گا یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تردید کرنی ہوگی جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ اس حدیث کے یہ معنے ہیں کہ میرے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق جائے گا یا ریقیہ بیان ) اللہ رکھا کی اس بات کو سن کر کہ میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو لکھا ہے کہ ہم تو موجودہ خلیفہ کے مرنے پر آپ کی بیعت کریں گے۔غلام رسول نمبر ۳۵ نے کہا۔نہیں ہم تو میاں