تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 588
دینی سرگرمیاں بیماری اور بڑھاپے کے باوجود بدستور جاری رہیں۔حضرت مفتی صاحب سالانہ جلسہ کی مقدس سٹیج کی رونق تھے آپ کی پر جذب و تاثیر تقاریر سے وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔خصوصاً " ذکر حبیب کا موضوع تو آپ کا سب سے دلپسند اور مقبول د محبوب موضوع تھا جسے آپ ایسے دلکش اور پر درد انداز میں بیان فرماتے کہ سُننے والے کو گویا حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود کی مبارک مجلس میں بیٹھا دیتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں :- ایمان دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ ایمان نیس کی جڑھے دماغ میں ہوتی ہے اور جس میں یقین کی بنیاد دلائل پر رکھی جاتی ہے اور ایک وہ ایمان ہے جس کی بنیاد عشق اور محبت پر رکھی جاتی ہے۔یہ ایمان اول الذکر ایمان سے افضل ہے لیکن سب سے افضل وہ ایمان ہے جس کی جڑ ھیں دل اور دماغ دونوں میں ہوں تاکہ دلائل کا رنگ بھی نمایاں ہوا اور عشق و محبت کا رنگ بھی غالب رہے۔حضرت مفتی صاحب کو ایمان کا یہی ارفع مقام حاصل تھا۔اسی لیے آپ زندگی بھر جہاد کی صف اوّل میں رہ کہ جہاں دلائل کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی نمایاں خدمات سر انجام دیتے رہے وہاں آپ نے عشق اور محبت کی گرمی کے ذریعہ بھی لوگوں کو مامور زمانہ کی مقناطیسی کشش سے متاثر کیا۔ذکر جیب آپ کا خاص موضوع تھا۔جسں کے بیان کرنے میں آپ کو کمال حاصل تھا۔آپ حضور علیہ السلام کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات نہایت مؤثر طریق پر بیاں فرماتے تھے جس سے سامعین اپنا روح میں ایک بالیدگی محسوس کرتے تھے۔اسی لیے جلسہ سالانہ کے موقع پر " ذکر حبیب" کے موضوع پر تقریر کے لیے آپ ہی کو منتخب کیا جاتا تھا اور۔۔۔۔آپ یہ فرض نہایت عمدگی اور خوش اسلوبی سے ادا فرماتے رہے کہ حضرت مفتی صاحب کا شمار اُن بزرگ اصحاب مسیح موعود میں ہوتا ہے جنہیں بچپن ہی سے ذکر الہی کا بہت شغف تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں قبولیت دعا کے بہت سے نشانات کا مشاہدہ کیا جس کی کسی قدر تفصیل ہمیں آپ کے رسالہ ستحدیث بالمغرمت " میں ملتی ہے۔نا روزنامه الفضل ریوه ۱۵ جنوری ۱۹۵۷ رصد ومت