تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 573 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 573

02A حضرت مفتی صاحب کے والد ماجد کا نام مفتی عنایت اللہ اور والدہ کا نام فیض بی بی تھے۔آپ بھیرہ میں معیتوں کے محلہ میں پیدا ہوئے۔اور انٹرفیس تک بھیرہ میں ہیں تعلیم پائی۔بعد ازاں حضرت مولانا نور الدین ما پھیر دی رخلیفتہ البیع الاول) کی وساطت سے جموں ہائی سکول میں انگلش ٹیچر مقرر ہوئے یہ ۱۸۹۰ ء کا واقعہ ہے اسی سال کے آخر میں آپ نے قادیان دارالامان کا پہلا سفر کیا اور بیعت سے مشرف ہوئے۔چنا نچہ آپ تحر یہ فرماتے ہیں :- ۱۸۹۰ ء میں یہ عاجز استان انٹرنس پاس کر کے جموں گی۔اور وہاں مدرسہ میں ملازم ہو گیا۔ایک اور مدرس جو میرے ہم نام تھے (مولوی فاضل محمد صادق صاحب مرحوم میں کے ساتھ اکٹھے رہتے تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود کی کتاب فتح اسلام جموں میں پہنچی رغالبا وہ پر دن کے اوراق تھے جو قبل اشاعت حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بھیجدیئے گئے تھے) اس کتاب میں حضرت صاحب نے پہلی دفعہ بالوضاحت میٹی ناصری کی وفات اور اپنے دعوے مسیحیت کا ذکر کیا۔وہ کتاب میں نے اور مولوی محمد صادق صاحب نے مل کر پڑھی۔اور میں نے اس پر چند سوالات لکھ کر حضرت مسیح موعود کو بھیجے۔جن کے جواب کے متعلق حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے جو اُن دنوں جموں تھے مجھے بزبانی فرمایا کہ عنقریب ایک کتاب شائع ہو گی۔اس میں ان سب سوالوں کے جواب آجائیں گے۔اس کے بعد اسکول میں کسی رخصت کی تقریب پریں قا دیان چلا آیا۔غالباً دسمبر ۱۸۹۰ء تھا۔سردی کا موسم تھا۔بٹالہ سے میں اکیلا ہی کہ میں سوار ہو کر آیا۔اور بارہ آنہ کرا یہ دیا۔حضرت مولینا صاحب مولوی نور الدين۔نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام ایک سفارشی لے آپ کے والد حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے قبل وفات پا گئے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ ۹۷ - ۱۸۹۶ ء میں داخل احمدیت ہوئیں۔بیعت کے بعد جب قادیان سے واپس بھیرہ جانے لگیں تو حضرت اقدس علیہ السلام ، مفتی صاحب اور آپ کی والدہ کو الوداع کہنے کے لیے بلکہ والی جگر تک تشریف لے گئے اور کھا مہنگا یا۔کھانا کسی کپڑے میں نہیں تھا اس لیے حضور نے اپنے عمامہ مبارک ہے ایک گز ایسا کپڑا پھاڑا اور اس میں باندھ دیا۔رز که حبیب مشاه از حضرت مفتی محمد صادق صاحب - ناشر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان)