تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 572
غیر احمدی جو شہر ڈیرہ غازیخاں کے میونسپل کمشنر بھی ہیں اپنے کام میں مصروف تھے۔انہوں نے اپنا کام چھوڑ کہ تھانہ صاحب کو بلایا اور کہا کہ میاں غلام رسول صاحب کیوں ناراض ہو رہے تھے۔اور کہنے لگا کہ بر بزرگ خدارسیدہ انسان اور اللہ کا پیارا ہے مجھے اس کی دعاؤں پر یقین کامل اور اس کی نارا منگی سے سخت خوف لگتا ہے۔آئندہ احتیاط کیا کہ و ہ کہ دوا دینی آواز سے بھی مخاطب نہ ہو۔صوم وصلواۃ کی بڑی سختی سے پابند تھے۔عمرو بیسر میں روزے بڑی تاکید کے ساتھ رکھا کرتے تھے۔اور یہ پرواہ نہیں کیا کرتے تھے کہ سحری کے لیے کچھ ہے بھی یا نہیں۔بلانا نہ نماز تہجد پڑھا کرتے اور اپنے رب کے حضور حضرت اسلام غلبه احمدیت ، سید نا خلیفہ المسیح الثانی المصلح موعود کی درازی عمر صحت و سلامتی و خاندان مسیح موعود اور بزرگان اور مبلغین اور مجاہدین سلسلہ کے لیے نہایت انکساری کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے۔شب بیدار تھے۔گر کبھی تہجد کے وقت اٹھنے میں دیرہ ہو جاتی تو کہتے تھے کہ فرشتہ مجھے کہا تھا کہ اٹھ غلام رسول تجد کا وقت ہو گیا ہے۔ہومی تھے اور چندہ وصیت ہمیشہ وقت پر ادا کرتے اور دوسرے چندوں اور تحریکات سلسلہ عالیہ میں بھی حسب توفیق حصہ لیا کرتے۔دست سوال درانہ کر نا موت کے برابر سمجھتے تھے اور عجیب شان این دی ہے کہ خدا وند کریم سب مشکلات وقت پر دور کرنے کے سامان مہیا کر دیا کرتا تھا یہ ۲ - حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیر دی بانی احمدیہ مشن امریکہ رولادت اور جنوری ۶۱۸۷۲ - بیعت اور جنوری ۱۹۱ ء - وفات ۱۳ جنوری ۱۹۵۷ء ) حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے آپ کے بزرگ عرب سے ایران آئے پھر سلطان محمود غزنوی کے زمانہ میں پنجاب پہنچے اور ملتان اور پاک پٹی میں مقیم ہوئے اور عموماً کورت وقت کی طرف سے قاضی کے عہدہ پر سر فرانہ رہے۔حضرت اور تنگ زیب کے زمانہ میں اس خاندان کے ایک عالم دین بھیرہ کے مفتی بنے اور یہیں آباد ہو گئے۔له الفضل ، فروری ، ۱۹۵ ء م ر مضمون حسن خانصاحب جانہ سیکر نرمی امور عامه ڈیرہ غازیخان) العضل ۲۹ جنوری ۱۹۵۷ ء صلہ : سے رجسٹر بیعت اصلی غیر مطبوعه : سله الفضل ۵ار جنوری ۱۹۵۷ منا ه مفصل شجرہ نسب مہینہ اخبار بعدہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ ء میں درج ہے۔نہ یہ قصبہ پہلے ضلع شاہ پور میں متھا اب ضلع سرگھر دیا میں ہے۔-