تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 574 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 574

۵۵۹ خط دیا تھا۔حضرت کے مکان پر پہنچ کر وہ خط میں نے اُسی وقت اندر بھیجا۔حضرت صاحب فوراً باہر تشریف لائے فرمایا۔مولوی صاحب نے اپنے خط میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔مجھ سے پوچھا کیا آپ کھانا کھا چکے ہیں۔تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔اُس وقت مجھ سے پہلے صرف ایک اور مہمان تھا۔رسید فضل شاہ صاحب مرحوم ) اور حافظ شیخ حامد علی صاحب مہمانوں کی خدمت کرتے تھے۔اور گول کمرہ مہمان خانہ تھا۔اس کے آگے جو تین دیواری بنی ہوئی ہے ، اُس وقت نہ تھی۔رات کے وقت اس گول کمرہ میں عاجز راقم اور سید فضل شاہ صاحب سوائے نماز کے وقت حضرت صاحب بیت مبارک میں جس کو عموٹا چھوٹی بیت الذکر کہا جاتا ہے تشریف لائے۔آپ کی ریش مبارک مہندی۔سے رنگی ہوئی تھی۔چہرہ بھی سُرخ اور چمکیلا۔سر پر سفید بھاری عمامہ۔ہاتھ میں عصاء تھا۔دوسری صبح حضرت صاحب زمانہ سے باہر آئے۔باہر آ کر فرمایا کہ سیر کو چلیں سید فضل شاہ صاحب (مرحوم) حافظ حامد علی صاحب (مرحوم) اور عاجزہ راقم ہمراہ ہوئے کھیتوں میں سے اور بیرونی راستوں میں سے سیر کرتے ہوئے گاؤں کے شرقی جانب چلے گئے۔اس پہلی سیر میں میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ گناہوں میں گرفتاری سے بچنے کا کیا علاج ہے۔فرمایا : موت کو یا درکھنا۔جب آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے۔کہ اُس نے آخر ایک دن مر جاتا ہے۔تو اس میں طول امل پیدا ہوتا ہے۔لمبی لمبی اُمیدیں کرتا ہے۔کہ میں یہ کر لوں گا اور وہ کمر لوں گا۔اور گناہوں میں دلیری اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔سید فضل شاہ صاحب مرحوم نے سوال کیا۔کہ یہ جو لکھتا ہے۔کہ مسیح موعود اُس وقت آئے گا۔جبکہ سورج مغرب سے نکلے گا۔اس کا کیا مطلب ہے۔فرمایا۔یہ تو ایک طبعی طریق ہے ، کہ سُورج مشرق سے نکلتا ہے۔مغرب میں عیوب ہوتا ہے۔اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔مراد اس سے یہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ اس زمانہ میں دین اسلام کو قبول کرنے لگ جائیں گے۔چنانچہ شنگی ہے کہ اور پوں میں چند ایک انگریز مسلمان ہوگئے ہیں۔جو کچھ باتیں ہیں سفر میں ہوئیں، اُن میں سے یہی دو باتیں مجھے یاد ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا چیز بھی ہیں نے مجھے حضرت صاحب کی صداقت کو قبول کرنے اور آپ کی بیعت کر لینے کی طرف کشش کی۔سوائے اس کے کہ آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا۔جس پر یہ امان نہ ہو سکتا تھا۔کہ وہ جھوٹا ہو۔دوسرے یا تیسرے دن میں نے حافظ حامد علی صاحب سے کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں یہ