تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 550
۵۳۵ کو شروع سے آخر تک لفظاً لفظاً تغیر صغیر کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ پڑھ کر سنائیں اور قابل اصلاح امور کی اصلاح کر دی جائے۔چنانچہ انہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو شروع سے لے کر سورۃ نور کے چودہویں رکوع تک لفظاً لفظاً ترجمہ اور تغیری نوٹ سُنائے جس کے لیے حضرت صاحبزادہ صاحب موصور نے باوجود عدیم الفرصتی کے نہایت بشاشت کے ساتھ ایک لمبا عرصہ وقت دیا۔کبھی رات کو نو بجے کے نبند بارہ بجے رات تک اور کبھی دن کو پہلے حصہ میں اور کبھی آخری حصہ میں۔آپ دوسرے کاموں سے تھکے ہوئے آتے۔لیکن مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ تغیر صغیر کا ترجمہ کتنے۔اور قابل اصلاح امور پر غور فرما کہ فیصلہ فرماتے۔جب سورۃ نور کی آیت استخلاف کے اس ترجمہ پر پہنچے کہ اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔تو اس دن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مصلح موعود کا وصال ہوگیا۔اور خدائی تقدیر کے مطابق حضرت صاجزادہ صاحب وصوت خلیفہ المسیح الثالث منتخب ہو گئے۔خلافت کی عظیم ذمہ داریاں حیب آپ کے کندھوں پر پڑیں تو آپ کے لیے تفسیر کے کام کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو گیا۔اس پہ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ مولوی ابو المنیر نورالحق صاحب کو بقیہ کام سرانجام دینا چاہیئے۔اور جو امر قابل استفسار ہو۔وہ آپ سے پوچھ لیا جائے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل کی گئی۔اور یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ قابل اصلاح امور کی درستگی ہو گئی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے تفسیر صغیر کو دوبارہ لکھوانے اور بلاکوں پر چھپوانے کی اجازت ادارۃ المصنفین کو مرحمت فرما دی یه ادارہ نے تغیر کو بلاکوں پر چھپوانے کے لیے اس کی دوبارہ کتابت کا انتظام کیا۔اور یہ فیصلہ کیا کہ جو تفسیری حواشی تغیر صغیر کے آخر میں بطور ضمیمہ درج ہوئے ہیں۔ان کو آیات متعلقہ کے نیچے درج کیا جائے۔معیاری کتابت کے لیے احمدی خوشنویس جناب منشی غلام جیلانی صاحب ساکن ننکانہ صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔جنہوں نے نہایت محنت ، خلوص اور مہارت سے کتابت کو دیدہ زیب بنا رہا۔بلاکس اینگر یوں ہور نہ خالد اپریل ۱۹۸۳ء مثانہ سے شیخ غلام جیلانی صاحب خوشنویس ولد شیخ محمد یعقوب صاحب مہاجر قصبہ تلون مضلع جالندھر (بھارت) حال ننکانہ صاحب ضلع شیخو پور۔آپ ۱۹۳۳ ء میں دا خل احمدیت ہوئے آپ سے جب مولوی ابو الیز فنا کی وساطات تفسیر صغیر کی انسٹ کتابت کا معاملہ طے ہوا اسوقت حضرت مصلح موعود بیمار تھے اور حضرت سیدنا مرزا ناصر احمد صاحب صدر انجمن احمدیہ (باقی اگلے مانی