تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 542
۵۲۷ میری زندگی کا کیا اختبار۔تمہارے بخار اترنے کے انتظار میں اگر مجھے موت آجائے تو ؟؟ سارا دن ترجمہ اور نوٹ لکھواتے رہے اور شام کے قریب تفسیر صغیر کا کام ختم ہو گیا ہے ترجمہ پر نظرثانی مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب رجنہیں تغییر کبیر کے کام کے ضمن میں نعت اور تفاسیر کے مطلوبہ حوالہ جات پیش کرتے نیز تغیر صغیر کی کتابت اور طباعت کا کام کروانے کی سعادت نصیب ہوئی) تحریہ فرماتے ہیں کہ :- حب سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی قرآن مجید کا ترجمہ اور مختصر نوٹ املاء کر دا چکے۔تو حضور کی خدمت میں سارا ترجمہ خوشخط لکھوا کہ پیش کر دیا گیا۔تو آپ نے اس کا جائزہ لینے کے بعد اس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ سید نا حضور نے خاکار (ابوالمنیر نورالحق اور مکرم مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر انچارج شعبہ زرد ڈنویس کو ارشاد فرمایا۔کہ آپ دونوں اصحاب مع ممزدور می کتب لعنت و تفاسیر کے قصر خلافت میں روزانہ صبح ساڑھے آٹھ بجے حاضر ہو جایا کریں۔یکم رمضان المبارک ۱۹۵۷ ءور بمطابق اپریل ۱۹۵۷ء) کو حضور نے ترجمہ پر نظرثانی کا کام شروع کیا۔آپ روزانہ اپنے دفتر میں کسی دن ایک پارہ کے ترجمہ پر اور کسی دن ڈیڑھ پارہ کے ترجمہ کی نظرثانی فرماتے۔صبح ساڑھے آٹھ بجے کام مشروع ہوتا جو عام طور پر ظہر تک اور بعض ایام میں عصر تک جاری رہتا اور آٹھ آٹھ نو نو گھنٹے نظر ثانی پر لگ جاتے چنانچہ حضور ایدہ اللہ نے صحت کی پر واہ کیے بغیر سخت محنت کرتے ہوئے رمضان المبارک میں نظر ثانی کا کام ختم کر بیاید۔نظر ثانی کے اس کٹھن مرحلہ کے بعد سیدنا حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ کی خدمت میں ستودہ ترجمہ پر نظر ثالث حسان لکھا کر پیش کی گی۔توحضور نے اس پر ایک اور دفعہ نظرڈالنے کا فیصد فرمایا۔کہ۔نے اور اس کام کو پر سکون ماحول میں کرنے کے لیے محلہ رجانہ الیستی میں تشریف لے گئے۔اور ۱۳ مئی ۱۹۵۷ ء ۱۹ء تک تیری بار مسودہ کو ملاخطہ فرمایا۔روزانہ صبح آٹھ بجے کام شروع ہوتا اور ڈیڑھ سله الفضل ۲۵ ماریچ ۱۹۶۶ ۶/ ۲۵ / امان ۱۳۴۵ مش صفحه ۵ له الفضل اسرمئی ۱۹۵۷ء م