تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 541
سے میں ایسا عظیم الشان کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرما دی۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اس بڑھے اور کمزور انسان ، وہ عظیم الشان کام کہ دالیا جوبڑے بڑے طاقتور بھی نہ کر سکے گذشتہ تیرہ سو سال میں بڑے بڑے قومی نوجوان گزرے ہیں مگر جو کام اللہ تعالیٰ نے مجھے سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے اس کی ان میں سے کسی کو بھی توفیق نہیں ملی در حقیقت یہ کام خدا کا ہے اور وہ میں سے چاہتا ہے کروالیتا ہے پہلے حضرت سیدہ ام متین صاحبہ (حرم حضرت مصلح موعودؓ فرماتی ہیں کہ : - قرآن مجید سے آپ کو جو عشق تھا اور میں طرح آپ نے اس کی تفسیریں لکھ کہ اس کی اشاعت کی رہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے۔خداتعالی کی آپ کے متعلق پیشگوئی کہ کلام اللہ ک مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو، اپنی پوری شان کے ساتھ پور میں ہوں میں دنوں تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کا نہ کھانے کا۔بس ایک دھن بھی کہ کام ختم ہو جائے۔رات کہ عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھے ہیں توکئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہوگئی اور لکھتے چلے گئے۔تغیر صغیر تو لکھی ہی آپ نے بیماری کے پہلے حملہ کے بعد یعنی ۱۹۵۶ء میں طبیعت کافی کمزور ہو چکی تھی۔گو یورپ سے واپسی کے بعد صحت ایک حد تک بحال ہو چکی تھی۔مگر پھر بھی کمزوری بہاتی تھی۔ڈاکٹر کہتے تھے۔آرام کریں فکر نہ کریں۔زیادہ محنت نہ کریں لیکن آپ کو ایک دھن بھی کہ قرآن نے ترجمہ کا کام ختم ہو جائے۔بعض دن صبح سے شام ہو جاتی اور لکھواتے رہتے۔کبھی مجھ سے املاء کرواتے۔مجھے گھر کا کام ہوتا تو مولوی محمد یعقوب صاحب مرحوم کو ترجمہ لکھواتے رہتے۔آخری سورتیں لکھوارہے تھے غالباً انیسواں پارہ تھا یا آخری شروع ہو چکا تھا ہم لوگ نخلہ میں تھے و میں تغیر صغیر مکمل ہوئی تھی کہ مجھے تیز بخار ہو گیا۔میرا دل چاہتا تھا کہ متواتر کئی دن سے مجھے ہی ترجمہ لکھوار ہے ہیں۔میرے ہاتھوں ہی یہ مقدس کام ختم ہو۔میں بخار سے مجبور متی ان سے کہا ئیں نے دوا کھالی ہے آج بالکل بخار اتر جائے گا دو دن آپ بھی آرام کر لیں آخری حصہ مجھوت ہی لکھوائیں تا میں ثواب حاصل کر سکوں نہیں مانے کہ له الفضل ۳۱ اگست ۱۹۵۶ دصت :۔