تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 543
۵۲۸ دو بجے دو پتر تک مسلسل جاری رہتا۔اس طرح روزانہ ایک پارہ کا ترجمہ حضور ملاحظہ فرما کہ اس کی تصیح فرماتے اور تغیر می نوٹوں میں مناسب اضافہ فرماتے۔ترجمہ پر نظر ثالث کے دوران اکثر چھ چھ گھنٹے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت صرف ہوتا۔کئی واقعہ کام کے دوران کھانے کا وقت آجاتا اور باوجود ڈاکٹری ہدایات کے کہ حضور کے لیے بروقت کھانا تناول کرنا ضروری ہے پھر بھی آپ کام میں مشغول رہتے۔یہاں تک کہ مقررہ کام ختم ہو جاتا۔بعض اوقات حضور کی طبیعت ناساز ہوئی۔لیکن پھر بھی خدمت قرآن کی یہ بے نظیر مهم با قاعدہ جاری رہتی۔بعض اوقات حضور کو سخت تھکان ہو جاتی۔اور حضور کو یوں محسوس ہوتا۔کہ حضور گرنے لگتے ہیں اس حالت کو دیکھ کر مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب اور مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر، عرض کرتے۔کہ حضور کام بہت زیادہ ہو گیا۔اس۔لیے اب بس کر دیں۔لیکن حضور کا یہی جواب ہوتا۔کہ جب تک مغفرہ کام ختم نہ ہو۔اس وقت تک کام جاری رہے گا۔خواہ رات کے بارہ بج جائیں لیے الغرض قرآن مجید کے ترجمہ اور مختصر تفسیری نوٹوں کا کام جس کے لیے کئی سال درکار تھے محض خدا کے فضل سے چار ماہ میں سر انجام پا گیا۔فالحمد لہ علی ذالک - قرآن مجید کا ترجمہ اور منظر تغیر کا مسودہ تیار ہو جانے کے بعد حضور تغیر صغیر کی کتابت اور طباعت کی خواہش تھی۔کہ اس کی کتابت اور طباعت تین ماہ میں مکمل ہو جائے ایه علمی خزانہ دنیا کے کونوں تک جتنی جلدی ہو سکے۔پہنچ جائے۔لیکن بظاہر یہ کام ناممکن نظر آتا تھا۔کیونکہ عام اندازہ کے مطابق قرآن مجید کا متن ، اس کا ترجمہ اور تغیری نوٹس کا تہوں سے لکھوانے اور بعد ازاں طیع کر وانے کے لیے کم از کم چھ ماہ کی مدت د کار تھی۔اس سے کم عرصہ میں کام ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔لیکن حضور کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کا آغاز کر دیا گیا۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قرآن مجید کے عربی متن کی کتابت کے لیے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق خاص حضرت منشی عبد الحق صاحب روالد بزرگوار مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب) کو اور اردو ترجمہ اور نوٹس کے لکھنے کے لیے قریشی محمد اسماعیل صاحب کا انتخاب فرمایا اور ہر دو کا تہوں کو نخد پہنچنے کا ارشاد فرمایا تم اس پر سکون بستی میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا وقت مل سکے۔چنانچہ دونوں کا توں له الفضل ۳ مئی ۱۹۵۷ء ص۳