تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 525
۵۱۰ نمائندگان نے اپنے امیر ضلع مکرم بابو قاسم الدین صاحب کی سرکردگی میں محترم صاحبزادہ صاحب سے مل کر اپنی درخواست کو دوہرایا جسے آپ نے منظور فرماتے ہوئے ۱۴ اور ۱۵ نومبر ۱۹۵۷ء کی تابی بخیں مقر فرمائیں۔محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ۱۴ نومبر کو صبح پونے چھ بجے بذریعہ کار سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوئے آپ کے ساتھ حضرت مولوی محمد الدین صاحب ناظر تعلیم مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب قائد مال انصا ساله مرکز بی اور کرم چوہدری فضل احمد صاحب نائب ناظر تعلیم بھی تھے۔آپ کا یہ قافلہ سوا نو بجے ڈسکہ پہنچے۔جہاں شہر سے باہر خواجہ محمد امین صاحب کے ساتھ جماعت نے آپ کا شاندار طریق پر استقبال کیا۔ڈسکہ کی ساری جماعت کے علاوہ علاقہ کی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔سیالکوٹ شہر سے امیر ضلع مکرم بابر قاسم الدین صاحب بھی ایک جماعت کے ساتھ پہنچے ہوئے تھے۔محترم صاحبزادہ صاحب نے سب احباب کو مصافحہ کا شرف عطاور فرمایا۔اور پھر اس جگہ تشریف لے گئے۔جہاں ناشتہ کا انتظام تھا۔یہاں شہر کے غیر احمد می اور غیر مسلم معززین بھی موجود تھے جنہوں نے صاحبزادہ صاحب کا خیر مقدم کیا۔دوستوں کی خواہش پر صاحبزادہ صاحب نے مجمع کو خطاب فرمایا اور اس امر پر زور دیا۔کہ اگر ہمارے ملک میں دیانت اور صداقت پیدا ہو جائے تو ہم بہت ترقی کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں آپ نے غیر ملکوں کی مثالیں دے کر بتایا ہے۔کہ وہ لوگ باوجود اس کے کہ دین کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں۔اپنے کاموں میں کس طرح دیانت داری سے کام لیتے ہیں اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔آپ کی اس تقریر کو سب نے ہی بہت سراہا۔جس کے بعد ایک غیر احمد می دوست نے فارسی زبان میں اپنے چند اشعار خوانہوں نے رات ہی محترم صاحبزادہ صاحب کی آمد کا علم ہونے پر ان کی شان میں کہے تھے سنائے۔اس تقریب کے ختم ہونے پر آپ ساری جماعت کے ساتھ پیدل ہی بہت احمدیہ میں تشریف لے گئے۔جو حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے اور نسب کی تکمیل ہو رہی ہے۔اس بیت کی تعمیر کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اس کا سارا خریچ محترم چو ہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے دیا ہے۔یہاں محترم صاحبزادہ صاحب نے لمبی دعا فرمائی۔میاں ابراہیم صاحب عابد اور میاں نذیر احمد صاحب اور خواجہ محمد امین صاحب امیر حلقہ اور دوسرے احباب نے تمام انتظامات بہت عمدگی سے کیے۔ڈسکہ سے روانہ ہوکر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنے قافلہ کے ہمراہ ساڑھے بارہ بجے کے قریب سیا لکوٹ پہنچے جہاں دوپہر کے کھانے کا انتظام خواہ عبد الرحمن صاحب ٹھیکیدار نے