تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 524 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 524

اور وہ قانون کی نہر سے باہر ہو۔جو صحافی ہتک آمیز اور جھوٹی شکایات شائع کرتا ہے وہ قانون کی زد سے باہر نہیں بلکہ اس پر اس بات کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غلط بیانیوں سے اجتناب کرے۔اس کی وجہ صاحت ہے۔کہ اخبار کے مندرجات کی اشاعت ایک شخص کے اقوال کی اشاعت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔اور چونکہ ایسی خبر چھپ جاتی ہے اس لیے ناداقت آدمی اکثر اس کی تردید نہیں کرتے۔اگر ہتک آمیز مضمون کسی اخبار میں چھپے تو پر دپرائٹر ایڈیٹر پرنٹر پیٹر سب پر یکجا یا علیحدہ علیدہ دعونی ہو سکتا ہے اور مشتر کہ اشاعت کی صورت میں ہر ایک مدعاعلیہ تمام ہرجانہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔یہ ویرا اسٹر ہتک آمیز مضمون کا ذمہ دار ہوتا ہے جو اخبار میں چھپے خواہ یہ اشاعت اس کی غیر حاضری اور بے خبری میں ہوئی ہو یا اس کے منشاء کے خلاف ہوئی ہو۔اس مقدمہ میں ہتک آمیز مضمون کی نوعیت اور وسعت اشاعت کے پیش نظر اور نیز فریقین کی حیثیت مقدمہ کے ماحول کو دیکھتے ہوئے میں قرار دیتا ہوں کہ مبلغ ۲۵۰ ۵ روپے منصفها نه طریق جگہ زم طریق پر مدعی کا حق ہے۔مندرجہ بالا قرار دادوں کی روشنی میں دعومی مدعی کی ڈگری معدہ خرچہ دی جاتی ہے : ۱۱/۵۷/ ۲۸ سے 6 ء حضرت ماتزاده محافظ مرزا ناصر حنا کا سفرسیالکوٹ ۱۵،۱۳۲، نومبر ۱۹۵۷ نو کو حضرت صاحب زاده مرزا ناصر احمد صاحب سیالکوٹ تشریف نے گئے بجھے حضرت مسیح موعود نے اپنا دوسرا وطن قرار دیا ہے۔اس مختصر مگر نہایت بابرکت سفر میں اپنوں اور پیر گانوں نے ہر جگہ آپ کا پر جوش اور شاندار استقبال کیا۔آپ نے ڈسکہ، سیالکوٹ گھٹیائیاں اور دانہ زید کا میں بہت موثر تقاریہ فرمائیں جس سے اس علاقہ میں بیداری کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔اختبار الفضل" کے خصوصی نامہ نگار کے قلم سے اس یادگار سفر کے حالات درج ذیل کیے جاتے ہیں۔ایک عرصہ سے جماعتہائے احمدیہ سیالکوٹ کی یہ دلی خواہش تھی۔کہ محترم صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاب ایم۔اے (آکسن) ان کے ہاں تشریعت لائیں۔لیکن محترم صاحبزادہ صاحب اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے ان کی دعوت کو منظور نہ فرما سکے۔آخر مجلس انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر سیالکوٹ کے له الفضل ۸ را بپریل ۱۹۵۸ دص