تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 520
۵۰۵ اندر ایمان ہوا ہے حضرت مصلح موعود نے پاکستان کے مشہور تنزل اور مستانہ میجر جنرل محمداکبر خان کی تصانیف پر تیرہ مصنف محمد اکبر خان کی کتاب حدیث دفاع پر جب ذیل تبصرہ سپرد قلم فرمایا :- یہ چند سطور میجر جنرل محمد اکبر خاں صاحب کی کتابوں پر اظہار رائے کے طور پر لکھی جاتی ہیں۔میجر جنرل محمد اکبر خان صاحب کرنل کمانڈینٹ رائل پاکستان آرمی سروس کو ر پاکستان کی مخصوص شخصیتوں میں سے ہیں کیونکہ وہ صرف پاکستانی جرنیل ہی نہیں بلکہ علمی مذاق بھی رکھتے ہیں اور خصوصاً ایسا علمی مذاق جو اسلام کی ایسی تعلیمات کے متعلق نیستی رکھتا ہے۔جو فوجی ٹیکٹس (TACTics) کے متعلق ہوتی ہیں۔سب سے پہلے ان کی کتاب " حدیث دفاع میرے دیکھنے میں آئی اس کے بعد کرنل الہی بخش صاحب جو لاہور کے مشہور فریشن (PHYSICIAN ) ہیں ان سے طبی مشورہ لینے کے لیے میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ صرف ایک کتاب کا ذکر کراتے ہیں مگر وہ اس وقت کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔جو اپنی ذات میں نہایت مفید ہیں تب مجھے جنرل صاحب موصوف کی دوسری کتابوں کا نشینی پیدا ہوا اور آج میں اُن کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں " حدیث دفاع جو غالباً جرنیل صاحب کی پہلی کتاب ہے فوجی امور سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے معلومات کا ایک گراں قدر ذخیرہ ہے کیونکہ اس میں انہوں نے جنگ کے متعلق اسلامی احکام اور صحابہ کے اعمال کو روشن کیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہر مسلمان جس کو اسلام کی خوبیوں کو معلوم کرنے کا شوق ہو گا وہ اس کتاب کو پڑھ کر نہ صرف اسلام کے متعلق اپنی معلومات کو بڑھائے گا بلکہ اسلام کی عظمت کا پہلے سے بھی زیادہ قائل ہو جائے گا۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب تبلیغ اسلام میں بھی کام آ سکتی ہے۔اور اگر اس کتاب له الفضل ، نومبر ١٩٥٧ء ص که دلادت ۱۸۹۵ء وفات ۱۲ جنوری ۴۴ ۱۹ - پاکستانی فوج کے پہلے میجر جنرل اور قائد اعظم سه کے فوجی مشیر تھے۔انہوں نے اسلام، پیغمبر اسلام عظیم مسلمان سپہ سالاروں اور عربی طریقوں پر کم و بیش چار درجن کتابیں لکھیں۔