تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 519
۵۰۴ ہوگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی روحانی اولا ولی جو تا ایہ آپ کا نام روشن رکھے گی۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد ہے اور یہ دہی کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا پس تمہا را فرمن ہے کہ تم حقیقی معنوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی روحانی اولاد بنویلے حضرت مصلح موعود نے ۱۲۶ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو انصار اللہ مرکز یہ کے انصار اللہ سے اثر انگیز خطاب اجتماع سے ایمان پر در خطاب فرمایا جس میں سورہ والنازعات کی ابتدائی آیات کی نہایت لطیف تفسیر بیان کی اور احمدیوں اور ان کے مبلغین کی قربانیوں اور یورپ میں سان کی اثر کے نفی فر کی مثالیں دیتے ہوئے فرمایا : - اللہ تعالی دنیا میں چاروں طرف اسلام کی اشاعت کے لیے راستے کھول رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمار ی جماعت قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتی چلی جائے تاکہ ہر جگہ اسلام کو کامیابی کے ساتھ پھیلایا جا سکے بے شک دنیا ہماری مخالفت ہے مگر کامیابی الہی سلسلہ کے لیے ہی مقدر ہوتی ہے۔مخالفانہ تدبیریں سب خاک میں مل جاتی ہیں اور اللہ تعالی کی تدبیر دنیا میں غالب آگر رہتی بنے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْر أَنَا كوين کہ انسانوں نے بھی اسلام کو شکست دینے کی بڑی تدبیریں کیں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالٰی نے بھی اسلام کو فتح دینے کی تدبیریں کیں۔لیکن واللہ خیر الماکرین۔اللہ تعالی کو بڑی تدبیریں کہ نی آتی ہیں اور آخر اللہ تعالی کی تدبیریں ہی جیتی ہیں دیکھ نو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دشمن نے کتنی تدابیر کیں لیکن بالآخر اسلام فاتح ہوا۔تو میں خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نشان دکھائے تھے۔وہ خدا ہمارے زمانے میں بھی موجود ہے وہ بڑھا نہیں ہو گیا۔وہ ویسا ہی جوان اور طاقت در ہے جیسے پہلے تھا صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے ه الفضل ، در اکتوبر ۱۹۵۷ء مدار ہے : آل عمران : ۵۵